وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللّٰہ نے محسن نقوی کی نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام سے متعلق بیان کو سمجھ سے بالاتر قرار دیدیا۔
رانا ثنااللہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی نےعجیب بات کی ہے، میں نے محسن نقوی کی تقریر سنی مجھے سمجھ نہیں آئی وہ کہنا کیا چاہتے تھے، لگتا ہے یہ بات بڑی ہے وہ اسے کم کر کے کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن کہہ نہ پائے، جب ان کے منہ سے بات نکل گئی پھر ان کی ایک بات دوسری بات سے نہیں ملتی، مجھے محسن نقوی کی کوئی بات سمجھ نہیں آئی وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کیوں کہہ رہے ہیں۔
رانا ثنا بولے جب ایک آدمی بات کرتا ہے تو یہ اس کی ذاتی رائےکا اظہار ہوتا ہے، یہ محسن نقوی پر ہےکہ اس بات کی ذمہ داری لیں کہ ان کےبیان سے کیا مراد ہے۔ْ
وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے مزید کہا کہ چھوٹے صوبے اور انتظامی یونٹ کا طریقہ کار آئین میں ہی درج ہے، پارلیمنٹ میں چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر گفتگو ہونی چاہیے، چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹ سے متعلق فیصلہ پارٹی کی قیادت کرےگی۔
مانچسٹر میں سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 5 اگست کو احتجاج کا اعلان
رانا ثنااللہ نےکہا 2013 سے 2018 تک پنجاب حکومت ہماری تھی، ہم نے تب صوبوں کی قرار داد پیش کی، میں نے اس کمیشن اورپنجاب میں 2 صوبوں کے قیام کی قرارداد خود پیش کی تھی، یہ نہیں ہو سکتا آپ بات کریں اور نئے صوبے بن جائیں، نئےصوبوں کےلیے نیشنل کمیشن بنانا ہوگا جس میں فنڈز سمیت دیگر معاملات پر فیصلے ہوں گے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ نیشنل کمیشن میں قومی اور صوبائی اسمبلی سمیت سینیٹ کی سیٹوں پر مشاورت ہونی ہے، نئےصوبوں کے معاملات پیچیدہ مسئلہ ہے جس پربہت سنجیدہ لوگوں کوبیٹھ کرمشاورت کرنا ہوتی ہے۔
رانا ثنااللہ بولے چھوٹےصوبے اور مضبوط بلدیاتی نظام دونوں میں سےکوئی ایک نظام یا دونوں ہوسکتے ہیں، فیصلہ سیاسی جماعتوں نےکرناہے۔











