تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
کسی سے نہیں ڈرتا ،کسی سے بلیک میل نہیں ہوں گا۔
ملک ریاض حسین، ون مین شو
بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض ڈٹ گئے ،جتنا مرضی ظلم کر لو، گواہی نہیں دوں گا ۔
ملک ریاض، محمود سپرا ،میر خلیل الرحمن ،کوہ نور اور نشاط فیکٹریوں کے مالکان وغیرہ چند ایک ہی ایسے لوگ ہوں گے جن کی ہم دنیا کو مثال دے سکتے ہیں اور جو آپ کی انگلیوں پر گنے سکتے ہیں۔ یہ لوگ بہت ہی معمولی سرمایہ لے کر گھر سے نکلے پھر دنیا کی بین الاقوامی شخصیات بنے اورجو لوگ ہمارے لیے انسپائریشن ہے لیکن ہم لوگ کب انہیں چھوڑتے ہیں؟ کب انہیں جینے دیتے ہیں؟ یہ تو کاروباری لوگ ہیں، نوکریاں دیتے ہیں، تجارت کرتے ہیں اور پھر منافع بلکہ میں کہوں گا کہ بے شمار منافع کماتے ہیں لیکن ہمارے ہاں تو ایسے سماجی کارکن، جیسے انصار برنی ہو گئے ،عبدالستار عیدھی جیسی نابغہ روزہ شخصیات ،جو زندگی بھر عوامی خدمت پر معمور رہےبنا کسی لالچ اور غرض کے ،ہم نے تو ان کو بھی جینے کے مواقع بہت کم دیے ہیں۔ یہ بات مجھے اس لیے کہنا پڑی کہ چیئرمین بحریہ ٹاؤن اس وقت پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک مقیم ہیں۔ یہاں پاکستان میں بقول شخصے حکمران اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ نے ان کے کاروبار اور زندگی کے تمام راستے بند کرنے کی کوشش کی ہے ،ان کی جائیدادیں بیچی جا رہی ہیں، ان پر قبضے کیے جا رہے ہیں، اکاؤنٹس فریز کر دیے گئے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ریاض حسین اس لیے عتاب میں آگئے کہ وہ ایک معروف و مقبول سیاسی رہنما اور سب سے بڑی پارٹی کے چیئرمین کے خلاف گواہی دینے پر راضی نہیں ہو رہے۔
ملک صاحب کو مختلف انداز سے ہراساں، کمزور اور پریشان کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن وہ اپنے موقف پر قائم رہے اور کہتے ہیں کہ کل جہاں کھڑا تھا ،آج بھی وہیں کھڑا ہوں۔
کسی کے خلاف گواہی نہیں دوں گا ،آج بھی میرا یہی فیصلہ ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے بلڈر، بزنس ٹائیکون اور ہاؤسنگ سوسائٹی کو ایک نئی جدت اور نیا طرز زندگی دینے والے ملک ریاض حسین کافی عرصے سے دبئی میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں، جہاں وہ یو اے ای کی گورنمنٹ کے ساتھ مل کر بحریہ ٹاؤن سے بہتر طرز رہائش دینے کے لیے ایک سوسائٹی پر کام شروع کر چکے ہیں۔
ملک صاحب بارہا اپنے ٹیلی ویژن انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں کام کرنا کوئی آسان کام ہے؟ قدم قدم پر مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری اداروں میں رشوت دینا پڑتی ہے، فائل روک لی جاتی کہ اس کے باوجود 40 سال تک یہاں کاروبار کیا ہے ۔
کئی سالوں سے بلیک میل ہو رہا ہوں ،بڑے بڑے سرکاری افسران کو بحریہ ٹاؤن میں کوٹھیاں بنا کے دی گئی ہیں، جن میں بیوروکریسی، ججز! جرنیل سر فہرست ہیں اور سرکاری لوگ، سیاسی پارٹیوں کے رہنما اس کے علاوہ۔
ان کے بقول ایسے کئی راز ان کے سینے میں ہیں کہ اگر وہ اگل دیں تو سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ملک کا امیج برباد ہو سکتا ہے۔
ملک وہ شخص ہے کہ اگر انہیں اجازت دی جاتی تو یہ پاکستان بھر کے سوسائٹیوں کے معاملات بہتر کر سکتے تھے لیکن اداروں میں منہ کھولے بیٹھے مگر مچھ اپنے ملک کی بہتری کے لیے کبھی نہیں سوچ پاتے ۔
یہ سرکاری لوگ اپنے پیٹ سے آگے دیکھ نہیں پاتے ۔
ملک ریاض جیسی شخصیت کسی ترقی یافتہ ملک میں ہوتی تو اس کے لیے بہترین کاروباری سہولیات فراہم کی جاتیں اور سکون سے اسے کام کرنے کے لیے مواقع دیے جاتے لیکن یہ مملکت خداداد پاکستان ہے یہاں تو بقول امریکی سینٹر
ڈالرز کے لیے لوگ اپنی ماں بھی بیچ سکتے ہیں
اتنے بے شرم بے ،حس ہر، ہڈحرام قسم کی عوامی سرکار شاید ہی دنیا میں کہیں پائی جاتی ہو۔











