امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور اگلے ہفتے اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان

اسلام آباد (سعد عباسی)دونوں ممالک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد ایک ماہ طویل مذاکراتی عمل کے لیے فریم ورک طے کرنا ہے

مسودے میں ایران کے ایٹمی پروگرام اور افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو کسی دوسرے ملک منتقل کرنے جیسے امور شامل ہیں۔ امریکا نے 20 سال کے لیے افزودگی روکنے اور مخصوص تنصیبات (فوردو، نتنز، اصفہان) کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے

ایران اور متحدہ عرب امارات میں لفظی گولہ باری

فریقین آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت پر بات کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں “پراجیکٹ فریڈم” کے تحت جاری بحری ناکہ بندی میں عارضی وقفے کا اعلان کیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے

پاکستان، قطر اور دیگر خلیجی ممالک پسِ پردہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے

مزید خبریں