کرائم رپورٹر: حسنین علی راجہ
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ای الیون ٹو میں واقع مبینہ انڈور شیشہ سینٹر ’’دی جنگل لاؤنج‘‘ سمیت امپیریل پلازہ اور کیلیفورنیا پلازہ میں مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد متعلقہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان مقامات پر مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرکے قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔
ذرائع کے مطابق ای الیون ٹو میں واقع دی جنگل لاؤنج میں مبینہ طور پر شیشہ نوشی اور دیگر سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر شیشہ فروشی کی تشہیر کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بعض اوقات عمارت کی بیرونی روشنیاں بند کرکے اندر سرگرمیاں جاری رکھی جاتی ہیں اور داخلی راستے پر ایک شخص تعینات ہوتا ہے، جو آنے جانے والوں پر نظر رکھتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
دوسری جانب امپیریل پلازہ کے مختلف فلورز اور کیلیفورنیا پلازہ میں مبینہ طور پر نجی پارٹیوں اور دیگر سرگرمیوں کے انعقاد سے متعلق بھی الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان مقامات پر مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کی نوعیت، متعلقہ کاروباری اجازت ناموں اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
ان الزامات کے تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ متعلقہ تھانہ پولیس، اسسٹنٹ کمشنر شالیمار اور ضلعی انتظامیہ نے اب تک ان مقامات کا معائنہ کیا ہے یا نہیں۔ اگر حکام کو ان سرگرمیوں سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں تو ان پر کیا کارروائی کی گئی؟ اسی طرح کاروباری مراکز کے لائسنس، اجازت ناموں اور دیگر قانونی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی صورت حال بھی واضح ہونا ضروری ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں غیرقانونی شیشہ کیفیز سے متعلق سامنے آنے والے مؤقف کے تناظر میں بھی قانون پر عمل درآمد کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ عدالتی ہدایات اور نافذالعمل قوانین کے مطابق شکایات کا جائزہ لیں اور جہاں خلاف ورزی ثابت ہو، وہاں بلاامتیاز کارروائی کریں۔
مقامی رہائشیوں اور تاجروں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر متعلقہ مقامات پر قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو اس کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نظر نہیں آ رہے۔ تاہم پولیس یا انتظامیہ کی مبینہ غفلت، کسی بااثر شخصیت کی پشت پناہی یا کسی اہلکار کی ممکنہ ملی بھگت سے متعلق الزامات کی تصدیق شواہد اور باضابطہ تحقیقات کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، اسسٹنٹ کمشنر شالیمار اور متعلقہ پولیس حکام دی جنگل لاؤنج، امپیریل پلازہ اور کیلیفورنیا پلازہ سے متعلق شکایات کا فوری نوٹس لیں۔ متعلقہ مقامات کے اجازت ناموں اور لائسنسوں کی جانچ پڑتال کی جائے، دستیاب سی سی ٹی وی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے اور خلاف ورزیوں کے شواہد ملنے پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
بجلی اور گیس کے کنکشن منقطع کرنے سمیت کسی بھی انتظامی اقدام کے لیے متعلقہ قوانین، مجاز اداروں کے اختیارات اور قانونی طریقۂ کار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح متعلقہ کاروباری مراکز کی انتظامیہ اور پولیس کا مؤقف سامنے لانا بھی شفاف رپورٹنگ کا اہم تقاضا ہے۔
تاحال ان الزامات کے حوالے سے متعلقہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام ان شکایات کی تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لاتے ہیں یا نہیں۔ اسلام آباد میں قانون کی یکساں عمل داری یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہوں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔











