شہری کے مطابق وہ ضلع لیہ کا رہائشی، پیشے کے لحاظ سے زمیندار اور ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مالک ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس سے قبل کبھی اسلام آباد نہیں آیا تھا اور دو روز قبل ہی ایک کام کے سلسلے میں وفاقی دارالحکومت پہنچا، جہاں اسے تھانہ کوہسار میں 2025 کے دوران نامعلوم ملزم کے خلاف درج مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔
شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے ایک مخالف نے مبینہ طور پر پولیس کے ساتھ ملی بھگت کرکے اسے مقدمے میں نامزد اور گرفتار کروایا۔ اس نے یہ الزام بھی لگایا کہ گرفتاری کے بعد اسے رقم وصول کرنے کے لیے بلیک میل کیا گیا۔
گوجرانوالہ: ولیمے کے دن دلہن کا قتل، مرکزی ملزم کی کزن اور مقتولہ کی دوست گرفتار
ذرائع کے مطابق، جب شہری کو اعلیٰ پولیس افسران کے سامنے پیش کیا گیا تو متعلقہ حکام اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے۔ بعدازاں اعلیٰ افسران نے مقدمے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔
واقعے نے پولیس کی تفتیش اور گرفتاری کے طریقۂ کار پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر شہری کے خلاف شواہد موجود نہیں تھے تو اسے مقدمے میں نامزد کرکے گرفتار کرنے کی وجوہات کیا تھیں؟ اسی طرح مخالف کے ساتھ مبینہ ملی بھگت اور بلیک میلنگ کے الزامات کی تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے تعین کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
تاہم، واقعے سے متعلق شہری کے الزامات، مقدمے کی منسوخی اور پولیس حکام کے مؤقف کی باضابطہ تصدیق ضروری ہے۔ متعلقہ حکام کا جواب سامنے آنے پر معاملے کی مزید تفصیلات واضح ہو سکیں گی۔











