هفته,  24 اکتوبر 2026ء
لاہور: سی سی ڈی اہلکار پر زیادتی کا مقدمہ، خاتون کے سابقہ کیسز کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں

لاہور(محب) لاہور میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار محمد شبیر کے خلاف خاتون کی شکایت پر مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے خاتون کے نام سے مختلف تھانوں میں پہلے بھی زیادتی کے مقدمات درج ہونے اور ان میں سے بعض کے دورانِ تفتیش خارج ہونے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ یکم اکتوبر کو کاہنہ بازار میں اس کا موبائل فون گم ہوگیا تھا، جس کی شکایت کے لیے وہ کاہنہ تھانے گئی، جہاں اس کی ملاقات سی سی ڈی اہلکار محمد شبیر سے ہوئی۔

خاتون کے مطابق، اہلکار نے بعد میں فون کرکے اسے بتایا کہ موبائل فون مل گیا ہے اور اسے آہلو روڈ پر بلایا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اہلکار اسے ایک خاتون حمیرا بی بی کے گھر لے گیا، جہاں اسلحے کے زور پر مبینہ زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی۔ شکایت میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ 10 اکتوبر کو خاتون کو دوبارہ اسی مقام پر بلا کر مبینہ زیادتی کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق، خاتون نے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی کھلی کچہری میں بھی شکایت پیش کی، جس کے بعد کاہنہ تھانے میں سی سی ڈی اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

پشین: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، 6 مبینہ دہشتگرد ہلاک

دوسری جانب دعویٰ کیا گیا ہے کہ عائشہ نامی خاتون نے مختلف افراد کے خلاف مختلف تھانوں میں زیادتی کے پانچ مقدمات درج کروائے، جن میں سے تین مبینہ طور پر دورانِ تفتیش خارج ہوگئے۔ پوسٹ کے مطابق، پہلے درج ہونے والے مقدمات میں نسیم نامی خاتون خود کو عائشہ کی والدہ ظاہر کرکے مقدمات درج کرواتی رہی، تاہم موجودہ مقدمے میں عائشہ خود مدعیہ بنی جبکہ رابطے کے لیے نسیم کا فون نمبر فراہم کیا گیا۔

تاہم، خاتون کے سابقہ مقدمات، ان کے خارج ہونے کی وجوہات اور مبینہ بھتہ خوری کے الزامات کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ پولیس ریکارڈ اور حکام کے باضابطہ مؤقف کی ضرورت ہے۔ سی سی ڈی اہلکار کے خلاف الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین بھی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔

مزید خبریں