جمعرات,  22 اکتوبر 2026ء
ای الیون کے امپیریل اور کیلیفورنیا پلازہ میں مبینہ منشیات و فحش ڈانس پارٹیاں عروج پر، شالیمار پولیس خاموش کیوں؟

لڑکیوں کو مبینہ طور پر پھنساکر پارٹیز میں لانے اور منشیات استعمال کرانے کے سنگین الزامات، کیا آئی جی اور ڈی آئی جی آپریشنز کسی کی موت کے منتظر ہیں؟مبینہ منشیات پارٹیاں جاری، سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر لائی جائے

اسلام آباد (حسنین علی راجہ) وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ای الیون میں تھانہ شالیمار کی حدود میں واقع امپیریل پلازہ اور کیلیفورنیا پلازہ کے بعض فلیٹس میں مبینہ طور پر منشیات کے استعمال اور فحش ڈانس پارٹیز کے انعقاد کی اطلاعات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ان مقامات پر ہونے والیغیر اخلاقی سرگرمیوں، نوجوان لڑکیوں کی موجودگی اور بلا خوف جاری رہنے والی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاعات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جبکہ متعلقہ پولیس کی مبینہ خاموشی نے معاملے کو مزید تشویش ناک اور سنگین بنا دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بعض لڑکیوں کو مبینہ طور پر مختلف طریقوں سے پھنساکر ان پارٹیز میں لایا جاتا ہے اور انہیں منشیات استعمال کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ محض غیر قانونی پارٹیز تک محدود نہیں رہتا بلکہ نوجوان لڑکیوں کے تحفظ اور ممکنہ جبری استحصال کا انتہائی سنجیدہ معاملہ بن جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ ادارے کسی بڑے سانحے یا کسی کی موت کا انتظار کر رہے ہیں؟ کیا کارروائی کے لیے کسی ناقابلِ تلافی نقصان کا ہونا ضروری ہے، یا ممکنہ جرائم کی روک تھام کے لیے بروقت اقدامات بھی کیے جائیں گے؟ مذکورہ پلازوں کے بعض فلیٹس میں بڑے پیمانے پر پارٹیز منعقد کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جہاں مبینہ طور پر مختلف اقسام کی منشیات استعمال کی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں تو متعلقہ پولیس ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کر رہی؟ منشیات سے بھری پارٹیز پولیس کی لاعلمی میں نہیں بلکے خاموش رضا مندی منعقد ہو رہی ہیں،

سابق ایس ایچ او شالیمار شفقّت فیض کے دور میں ان مقامات کے حوالے سے متعدد کارروائیاں کی گئی تھیں، تاہم ان کی تبدیلی کے بعد مبینہ طور پر ایسی پارٹیز دوبارہ زور پکڑ چُکی ہے۔ یہ صورتِ حال پولیس کی نگرانی اور قانون پر عمل درآمد کے نظام کے لیے ایک بڑا اور سنگین سوالیہ نشان ہے۔

آئی جی صاحب مذکورہ پلازوں میں موجود سی سی ٹی وی کیمرے کی گزشتہ ویک اینڈ کی فوٹیج منگوائے اور خود اسکی جانچ کریں تو سب کھل کر سامنے آ جائے گا، اس چیز کی تحقیقات کی جائے کہ یہ فلیٹس کس کے ہے انکی بکنگ کون کرتا ہے ،سابقہ ریکارڑ اٹھا کر دیکھا جاۓ، انکی پُشت پناہی کون کر رہا ہے،

کیا اسلام آباد پولیس کسی بڑے حادثے یا سنگین واقعے کی منتظر ہے، یا شہریوں کے تحفظ کے لیے بروقت کارروائی بھی کی جائے گی؟ اگر رہائشی عمارتوں میں قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو اس کی روک تھام، نگرانی اور ذمہ داروں کے تعین کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

اس ویک اینڈ پر مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کی مُکمل نشاندہی کی جائے گی، مقامی تاجروں اور رہائشیوں نے آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی اور متعلقہ ایس پی سے مطالبہ ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، متعلقہ پولیس کا مؤقف حاصل کیا جائے اور الزامات درست ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

مزید خبریں