هفته,  24 اکتوبر 2026ء
پی آئی اے کی برطانیہ کے لیے پروازیں بحال، میت اور ایک لواحقین کی مفت منتقلی کی سہولت برقرار، امتیاز فیروز گوندل

مانچسٹر (روشن پاکستان نیوز): پاکستانی قونصلیٹ مانچسٹر کے عہدیدار امتیاز فیروز گوندل نے کہا ہے کہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کی برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی سے پاکستانی کمیونٹی کو پاکستان آنے جانے میں بڑی سہولت میسر آئی ہے، جبکہ بیرون ملک انتقال کر جانے والے پاکستانیوں کی میت وطن منتقل کرنے اور ان کے لواحقین میں سے ایک فرد کو مفت سفر کی سہولت بھی بدستور دستیاب ہے۔

صحافی اور اینکرپرسن اعجاز افضل کو انٹرویو دیتے ہوئے امتیاز فیروز گوندل نے کہا کہ پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی سے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے لیے پاکستان کا براہِ راست سفر آسان ہوا ہے۔ ان کے مطابق لندن اور مانچسٹر سمیت برطانیہ کے مختلف مقامات سے پروازوں کی بحالی سے سفر کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات، دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کا فروغ پاکستانی قونصلیٹ اور دیگر سفارتی مشنز کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے عوامی رابطوں، ثقافتی تبادلوں اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ تعاون کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔

امتیاز فیروز گوندل کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت پانچ ارب سے تجاوز کر چکی ہے اور تجارتی توازن پاکستان کے حق میں ہے۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کاروباری افراد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (REAP) کے وفد نے مانچسٹر، برمنگھم اور بریڈفورڈ میں ملاقاتیں کیں، جبکہ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے وفد نے بھی برطانیہ کا دورہ کیا۔ ان وفود کے ذریعے پاکستانی چاول، جراحی آلات، کھیلوں کے سامان اور کھیلوں کے ملبوسات کی برآمدات کے فروغ کے امکانات پر کام کیا جا رہا ہے۔

مانچسٹر قونصل خانے کی خدمات میں بہتری، پاکستانی کمیونٹی کے لیے نئی سہولتیں متعارف

انہوں نے کہا کہ مانچسٹر قونصلیٹ کا ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ ونگ پاکستان کے ساتھ درآمدات، برآمدات اور سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے افراد اور کاروباری اداروں کی معاونت کے لیے موجود ہے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امتیاز فیروز گوندل نے کہا کہ پاکستانی اور کشمیری کمیونٹیز برطانیہ میں باہمی اتحاد اور بھائی چارے کے ساتھ رہتی ہیں اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی و کشمیری نژاد ارکانِ پارلیمنٹ، لارڈز، میئرز اور مقامی سیاسی نمائندے برطانوی پارلیمنٹ، مقامی کونسلوں اور سول سوسائٹی میں اس مسئلے کو اجاگر کرنے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

پاکستانی طلبہ کی رہنمائی کے لیے شروع کیے گئے کیریئر کونسلنگ پروگرام کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد 15 سے 18 سال کی عمر کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور مستقبل کے پیشہ ورانہ شعبوں کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مانچسٹر یونیورسٹی، مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی (MMU) اور یونیورسٹی آف سیلفورڈ سے وابستہ پاکستانی نژاد پروفیسرز اور ڈینز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے تحت اب تک دو سیشن منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں سائنس، انجینئرنگ، میڈیکل، بائیومیڈیسن، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، سیاست، عوامی خدمات اور قیادت جیسے شعبوں پر طلبہ کی رہنمائی کی گئی۔ ان سیشنز کا مقصد نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے تقاضوں اور مستقبل میں روزگار کے امکانات سے آگاہ کرنا ہے۔

مزید خبریں