اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) آج سے ٹھیک 94 سال قبل 15 اکتوبر 1932 کو برصغیر میں سول ایوی ایشن کی تاریخ کا ایک ایسا یادگار باب لکھا گیا جس نے مستقبل کے فضائی سفر کی بنیاد رکھی۔ اس تاریخی دن 28 سالہ نوجوان اور ہندوستان کے پہلے لائسنس یافتہ پائلٹ جہانگیر رتن جی دادا بھوئے العروف جے آر ڈی ٹاٹا نے ایک چھوٹے سے سنگل انجن والے “ڈی ہیولینڈ پس موتھ” طیارے میں کراچی کے ڈرگ روڈ ایروڈروم سے اڑان بھری تھی۔
لاہور ڈویژن اور قصور ڈسٹرکٹ تائیکوانڈو ایسوسی ایشن کے نئے عہہدیداران کا انتخاب
یہ مسافر پرواز نہیں تھی بلکہ اس میں برطانیہ کے “امپیریل ائیرویز” کے ذریعے لندن سے کراچی پہنچنے والی 25 کلوگرام وزنی ڈاک رکھی گئی تھی۔ جس پر 4 آنےکا ٹکٹ چسپاں تھا۔ ماہرین کے مطابق اس وقت طیارے میں کوئی ریڈیو تھا اور نہ ہی زمین پر رہنمائی کے لیے نیویگیشن سسٹم موجود تھا۔
ریکارڈ کے مطابق جے آر ڈی ٹاٹا نے تقریباً 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑان بھرتے ہوئے مٹی کے بنے کچے رن وے پر طیارہ اتارا اور پھر اڑایا تھا۔ کراچی سے ممبئی کے جوہو ائیرپورٹ تک کی پرواز کا درمیانی اسٹاپ احمد آباد تھا۔طیارہ احمد آباد میں ایندھن بھرنے کیلئے رکا تو وہاں پیٹرول کے کین ایک بیل گاڑی پر لاد کر طیارے تک پہنچائے گئے تھے۔











