اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کے پنشنرز نے پنشن کی ادائیگی میں تاخیر اور صرف 50 فیصد پنشن جاری کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
پنشنرز کے مطابق اس سے قبل بھی پنشن کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی تھی اور 13 جولائی 2026 کو پنشن ادا کی گئی، جبکہ اب ستمبر کی پنشن کا صرف 50 فیصد حصہ جاری کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں زبانی طور پر فنڈز کی کمی کا بتایا گیا ہے اور آئندہ ماہ پنشن کی ادائیگی بھی غیر یقینی قرار دی جا رہی ہے۔
پنشنرز نے مؤقف اختیار کیا کہ پنشن ان کا حق ہے اور بیشتر ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کا واحد ذریعہ آمدن ہے۔ ان کے مطابق حاضر سروس ملازمین اور اعلیٰ انتظامیہ کی تنخواہیں باقاعدگی سے ادا ہو رہی ہیں، جبکہ بزرگ پنشنرز کو مکمل واجبات نہ ملنے سے گھریلو، طبی اور دیگر بنیادی اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
والدین کو نظر انداز اور دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کیلیے بُری خبر
پنشنرز نے مزید بتایا کہ ان کے لیے طبی سہولیات کا نظام تقریباً دو سال سے معطل ہے، جس سے مستقل علاج اور ادویات کے محتاج ریٹائرڈ ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پنشنرز نے مطالبہ کیا ہے کہ ستمبر کی بقایا 50 فیصد پنشن فوری جاری کی جائے، ہر ماہ مکمل اور بلا تعطل پنشن کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، طبی سہولیات بحال کی جائیں اور PCSIR پنشن کو دیگر وفاقی محکموں کی طرح AGPR کے براہِ راست کریڈٹ سسٹم سے منسلک کیا جائے۔ انہوں نے پنشن فنڈز کی بار بار پیدا ہونے والی کمی کے مستقل حل کے لیے بھی مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔











