ماسکو(روشن پاکستان نیوز) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ طے پاگیا ہے، جس میں خلیجی ممالک سمیت دیگر ریاستوں کی شرکت کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت خطے میں تعاون کے فروغ کے لئے اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مکہ معاہدے میں شرکت کے لیے مصر کا اکثر ذکر کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق ایران بھی مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے تاہم اس کے لئے ایسا فریم ورک اورشرائط طے کرنا ہوں گی جن کے تحت ایران کواس معاہدے میں شامل کیا جاسکے۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ اگرایسے کسی فریم ورک پراتفاق ہوجاتا ہے جس کی شرائط کے تحت ایران مکہ معاہدے میں شامل ہوسکے تویہ انتہائی مثبت اورعملی اقدام ہوگا، انہوں نے خطے میں مزید ممالک کی ممکنہ شمولیت کو بھی خوش آئند قرار دیا۔
روسی وزیر خارجہ کے مطابق اگرمصراورالجزائر بھی مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کا دائرہ وسیع ہونے سے خطے کے مختلف ممالک کے درمیان دفاعی اورسلامتی کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
سرگئی لاوروف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اورترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے فریم ورک پر خطے میں خاصی توجہ مرکوز ہے۔
روسی وزیرخارجہ نے مکہ معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کے امکانات کا ذکرکرتے ہوئے بالخصوص ایران، مصراورالجزائرکے نام لیے ہیں، جس سے اس مجوزہ دفاعی تعاون کے ممکنہ دائرہ کارپرنئی بحث شروع ہوگئی ہے۔











