اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) آسٹریا میں تعطیلات کے بعد اسکول کھلنے کے ساتھ ہی 14 سال سے کم عمر طالبات کے اسکارف پہننے پر پابندی کا قانون نافذ ہوگیا۔
آسٹریا کی تین جماعتوں پر مشتمل حکمران اتحاد نے اسکولوں میں اس پابندی کی تجویز پیش کی تھی، حکمران اتحاد کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام لڑکیوں کی آزادی کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔
یہ قانون دسمبر میں انتہائی دائیں بازو کی ‘فریڈم پارٹی’ کی حمایت سے پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا تھا جبکہ پارلیمنٹ کی سب سے چھوٹی جماعت بائیں بازو کی ‘گرینز’ پارٹی نے اس قانون کی مخالفت کی تھی۔
نئے قانون کے تحت پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی کسی بھی طالبہ کے ساتھ اسکول انتظامیہ کا بات چیت کرنا لازمی ہے جس کے بعد 150 سے 800 یورو (175 سے 930 ڈالر) تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
انگلش چینل عبور کرنیوالے 140 تارکین وطن ریسکیو، برطانیہ منتقل
آسٹریا کے مسلمانوں کی باقاعدہ نمائندگی کرنے والی تنظیم ‘اسلامک ریلیجیئس کمیونٹی اِن آسٹریا’ نے اس اقدام کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ عدالت نے جولائی میں اس حوالے سے دائر درخواستیں یہ کہہ کر مسترد کر دی تھیں کہ قانون ابھی نافذ نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ آسٹریا کی آئینی عدالت نے 2020 میں اسکولوں میں 10 سال سے کم عمر بچیوں پر اسکارف کی پابندی کے ایک سابقہ قانون کو غیر قانونی قرار دیا تھا، عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ یہ قانون مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک پر مبنی ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں غیر جانبدار رہے۔











