جمعرات,  22 اکتوبر 2026ء
27 اکتوبر: یومِ سیاہِ کشمیراور حقِ خود ارادیت کی ادھوری داستان

مشتاق احمد بٹ
سابق سیکریٹری اطلاعات، کل جماعتی حریت کانفرنس

27 اکتوبر تاریخِ کشمیر کا ایک سیاہ باب* ہے۔ *1947ء* میں اس روز *بھارتی افواج سری نگر میں اتریں اور جموں و کشمیر میں بھارتی فوجی مداخلت کا آغاز ہوا، جسے کشمیری عوام اپنے وطن پر جبری قبضے کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہیں۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں کشمیری ہر سال یہ دن یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو یاد دلایا جا سکے کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وہ اپنے بنیادی حقِ خود ارادیت سے محروم* ہیں۔

*مسئلہ کشمیر زمین کے ٹکڑے یا سرحدوں کی کشمکش نہیں، بلکہ ایک قوم کے سیاسی مستقبل، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا سوال ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کی آزادانہ رائے کے ذریعے مسئلے کے حل کا اصول تسلیم کیا* گیا، لیکن *عالمی وعدوں اور عملی اقدامات کے درمیان خلیج آج بھی برقرار ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ایک پوری قوم کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق سے محروم رکھا جائے* گا؟

*اس طویل تنازعے نے کشمیری معاشرے کو گہرے انسانی المیوں سے دوچار کیا* ہے۔ *جبری گمشدگیاں، شہادتیں، گرفتاریوں اور ہجرت کے واقعات نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں۔ ان مظالم کے اثرات صرف متاثرہ افراد تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کے خاندان برسوں تک دکھ، محرومی اور بے یقینی کا بوجھ اٹھاتے* ہیں۔

*کشمیر کی نیم بیواؤں کا کرب اس المیے کا ایک نہایت دردناک پہلو ہے۔ اپنے لاپتا شوہروں کی واپسی کی امید میں برسوں سے منتظر یہ خواتین نہ اپنے شریکِ حیات کی زندگی کے بارے میں یقین رکھتی* ہیں اور نہ ان کی موت کی تصدیق کے بعد سوگ منا سکتی ہیں۔ ان کی زندگی انتظار اور بے یقینی کے درمیان معلق رہتی ہے۔ ہر گزرتا دن ان کی امیدوں کا امتحان لیتا ہے، جبکہ ہر بے خبری ان کے زخموں کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔

دوسری جانب وہ *بیوائیں ہیں جنہوں نے اپنے شوہر کھو دیے اور اب انہیں غم کے ساتھ زندگی کی تلخ حقیقتوں کا بھی سامنا ہے۔ بچوں کی پرورش، معاشی مشکلات، گھر کی ذمہ داریاں اور معاشرتی مسائل ان کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیتے* ہیں۔ بہت سی خواتین اپنے پیاروں کی جدائی کے ساتھ کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی تنازعے کی اصل قیمت صرف سیاسی اعداد و شمار میں نہیں، بلکہ ان خاندانوں کی ٹوٹی ہوئی زندگیوں میں بھی نظر آتی ہے۔

*5 اگست 2019ء* کو بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد ڈومیسائل قوانین اور غیر ریاستی باشندوں کو قانونی حیثیت دینے کے اقدامات نے *کشمیری عوام میں اپنی آبادیاتی شناخت، مسلم تشخص، زمین اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے خدشات کو مزید گہرا کیا* ۔ کشمیری عوام کے ان خدشات کا منصفانہ جائزہ اور ان کے حقوق کا تحفظ عالمی برادری کی توجہ کا متقاضی ہے۔

ان حالات کے باوجود *کشمیری عوام اپنے سیاسی، سفارتی اور عوامی مؤقف کو دنیا تک پہنچانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس جدوجہد کو مؤثر بنانے کے لیے کشمیری قیادت اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کے درمیان اتحاد، نظم و ضبط اور مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر* ہے۔

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے چند اقدامات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں:

1۔ عالمی برادری کا عملی کردار: عالمی طاقتیں محض تشویش کے اظہار کے بجائے مسئلے کے منصفانہ حل اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں کریں۔

2۔ جنوبی ایشیا میں امن کا تحفظ:
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور خطے کو ممکنہ تباہ کن تصادم سے محفوظ رکھنے کے لیے مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل تلاش کیا جائے۔

3۔ پاکستان کی مؤثر سفارت کاری:
اگر چہ پاکستان اکیلے دنیا کے ہر فورم پر کشمیر کا مسلہ اجاگر کرتا آرہا ہے تاہم اب جو صورتحال کشمیر میں ہے اس کا تقاضا ہے کہ
پاکستان عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں تیزی لائے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو مزید مربوط بنائے۔

4۔ کشمیری قیادت کا اتحاد: کشمیری قیادت مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کرے تاکہ حقِ خود ارادیت کا مقدمہ زیادہ مؤثر اور منظم انداز میں عالمی سطح پر پیش کیا جا سکے۔

5۔ انسانی حقوق کا تحفظ: جبری گمشدگیوں، سیاسی پابندیوں اور دیگر مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

یہ *حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ تنازعے کے حل میں تاخیر صرف ایک سیاسی مسئلے کو طول نہیں دیتی، بلکہ اس سے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات بھی بڑھتی رہتی ہیں۔ نیم بیواؤں کا طویل انتظار، بیواؤں کی معاشی بے بسی اور بچوں کا غیر یقینی مستقبل اس انسانی قیمت کی واضح عکاسی کرتے ہیں جو کشمیری معاشرہ مسلسل ادا* کر رہا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ *عالمی برادری مسئلہ کشمیر کو محض علاقائی تنازعے کے بجائے حقِ خود ارادیت، انسانی وقار اور دیرپا امن کے تناظر میں دیکھے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی اصولوں اور کشمیری عوام کی جائز خواہشات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا منصفانہ حل تلاش کیا جائے جو ان کے سیاسی مستقبل کے تعین میں ان کی آزادانہ رائے کو مرکزی اہمیت* دے۔

*27 اکتوبر کا یومِ سیاہ* ایک واضح پیغام ہے: *کشمیر کا مسئلہ ابھی حل طلب* ہے، *
*حقِ خود ارادیت کی جدوجہد ابھی نامکمل ہے اور انصاف کے بغیر پائیدار امن ممکن* نہیں* ۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اپنے اصولی مؤقف کو عملی اقدامات میں بدلے تاکہ کشمیری عوام بھی امن، تحفظ اور وقار کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔

مزید خبریں