اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) گردے ہمارے جسم میں کسی واٹر فلٹر کی طرح کام کرتے ہیں۔
واٹر فلٹر ان چیزوں کو پانی سے خارج کرتا ہے جو ہمارے جسم کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں اور ہمارے گردے بھی یہی کام کرتے ہیں۔
گردے خون کو فلٹر کرتے ہیں جس کے دوران زہریلے مواد اور اضافی سیال کو جسم سے خارج کرتے ہیں جبکہ پوٹاشیم، سوڈیم اور دیگر اجزا کی سطح کو متوازن رکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ گردے ایسے ہارمونز بھی بناتے ہیں جو بلڈ پریشر سے لے کر ہڈیوں کی مضبوطی کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں، آسان الفاظ میں گردے بہت اہم ہوتے ہیں۔
ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں ہر 10 میں سے ایک فرد کو گردوں کے دائمی امراض کا سامنا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سیال اور دیگر مواد جسم میں اکٹھا ہونے لگتا ہے۔
اب دریافت ہوا ہے کہ موجودہ عہد میں بیشتر افراد کی پسندیدہ غذا گردوں کے دائمی امراض کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھا دیتی ہے۔
کلینیکل جرنل آف امریکن سوسائٹی آف نیفرولوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال گردوں کے دائمی امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔
ان غذاؤں کو متعدد دائمی امراض جیسے امراض قلب، کینسر اور دیگر سے منسلک کیا جاتا ہے۔
اچھی صحت کیلئے ناشتہ کرنے کا مثالی وقت کونسا ہوتا ہے؟
اس نئی تحقیق میں 2661 معمر افراد کو شامل کرکے دیکھا گیا کہ غذائی عادات کس حد تک گردوں کے امراض کے خطرے سے جڑی ہوتی ہیں۔
ان افراد کی غذائی عادات کا ڈیٹا مختلف سرویز کے ذریعے حاصل کیا گیا اور پھر لگ بھگ 7 سال تک ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں گردوں کے دائمی امراض کا خطرہ 26 سے 37 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل غذاؤں کے زیادہ استعمال سے گردوں کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔











