اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ویسے تو اکثر افراد کا ماننا ہے کہ اچھی صحت کے لیے روزانہ 10 ہزار قدم چلنا چاہیے۔
مگر اب محققین نے دریافت کیا ہے کہ اچھی صحت کے لیے ضروری نہیں کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلا جائے بلکہ مختصر وقت تک تیز رفتاری سے چہل قدمی کرنے سے بھی صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع تحقیق میں لگ بھگ 65 ہزار افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 61 سال تھی۔
ان افراد کو 7 دن تک ایکٹیویٹی ٹریکرز پہنا کر رکھے گئے تاکہ دیکھا جاسکے کہ چہل قدمی سے کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس سے ہٹ کر بھی 70 ہزار کے قریب ایسے افراد شامل کیے گئے جن میں امراض قلب سے موت کا خطرہ موجود تھا اور ان کو ایکٹیویٹی ٹریکرز پہنا کر رکھے گئے تھے۔
تحقیق کے آغاز میں لوگوں کے قدموں کی تعداد کو مدنظر رکھ کر 4 گروپ بنائے گئے۔
ایک گروپ 0 سے 5 ہزار قدم چلنے والوں کا تھا، دوسرا 5 سے ساڑھے 7 ہزار، تیسرا ساڑھے 7 سے 10 ہزار جبکہ چوتھا 10 ہزار سے زائد قدم چلنے والوں کا تھا۔
اس کے بعد 8 برسوں تک ان افراد کی مانٹرینگ کی گئی جس دوران 1679 افراد مختلف وجوہات کے باعث ہلاک ہوئے جبکہ 502 امراض قلب کا شکار ہوکر چل بسے۔
نتائج سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی فرد تیز رفتار سے روزانہ 5 ہزار سے بھی کم قدم چلتا ہے تو بھی کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے۔
اسی طرح 5 سے ساڑھے 7 ہزار قدم سست روی سے چلنے سے بھی موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
انڈوں سے سالمونیلا کا خطرہ، برطانیہ میں ایک شخص ہلاک، 250 سے زائد متاثر
محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ تیز رفتاری سے کم وقت تک چلنا بھی صحت کو اتنا ہی فائدہ ہوتا ہے جتنا سست روی سے زیادہ وقت تک چہل قدمی کرنے سے ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ کم از کم 30 منٹ تک تیز رفتاری سے چلنے سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ اتنا ہی کم ہوتا ہے جتنا روزانہ ساڑھے 7 ہزار قدم چلنے سے ہوتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ساڑھے 7 سے 10 ہزار قدم روزانہ چلنے سے قبل از وقت موت کا خطرہ سب سے زیادہ کم ہوتا ہے، چاہے رفتار جتنی بھی ہو۔











