بدھ,  09  ستمبر 2026ء
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات فوری کرائے جائیں،سیداشتیاق گیلانی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سول سوسائٹی کی نمائندہ تنظیموں نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات فوری کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مضبوط جمہوریت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے مقامی حکومت کا فعال نظام ناگزیر ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے ساتھ ساتھ بلدیاتی انتخابات بھی بروقت کرائے جائیں تاکہ گورننس کے تینوں درجے مکمل طور پر فعال ہو سکیں۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یو گڈ کے سی ای او سید اشتیاق گیلانی، پروگرام منیجر یوگڈ مہوش کیانی، سپارک کے پروگرام منیجر ڈاکتر خلیل احمد ڈوگر و دیگرکا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے کئی بار اعلانات کیے جا چکے ہیں، حلقہ بندیوں کا عمل بھی متعدد مرتبہ مکمل ہوا، تاہم انتخابات تاحال منعقد نہیں ہو سکے۔ بار بار انتخابات ملتوی ہونے سے نہ صرف انسانی اور مالی وسائل ضائع ہوئے بلکہ شہریوں کو بھی مقامی سطح پر اپنے مسائل کے حل کے لیے مؤثر نمائندگی میسر نہیں آ رہی۔مقررین کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتیں اختیارات کو مرکز سے نچلی سطح تک منتقل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ یونین کونسل کی سطح پر چیئرمین، وائس چیئرمین اور مختلف طبقات کی نمائندگی کے ذریعے خواتین، نوجوانوں، کسانوں اور خصوصی افراد سمیت معاشرے کے مختلف طبقات کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گلیوں، سڑکوں، صفائی، بنیادی صحت، تعلیم، پیدائش و وفات کے سرٹیفکیٹس اور دیگر روزمرہ کے شہری مسائل کے حل کے لیے شہریوں کو منتخب مقامی نمائندوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ ان مسائل کے حل کے لیے ہر معاملہ قومی یا صوبائی اسمبلی کے ارکان کے پاس لے جانا مؤثر نظامِ حکمرانی کی علامت نہیں۔مقررین نے کہا کہ اسلام آباد میں مختلف سرکاری اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم واضح نہ ہونے کے باعث ایک ہی نوعیت کے کام متعدد محکمے انجام دیتے ہیں، جس سے وسائل کے ضیاع کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مقامی حکومت کے قیام سے ذمہ داریوں، اختیارات اور وسائل کی تقسیم واضح ہو سکتی ہے۔انہوں نے آئین کے آرٹیکل 140-A سمیت آئینی تقاضوں کے مطابق بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو انتظامی اور مالی خودمختاری دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے علاقوں کے مسائل مؤثر انداز میں حل کر سکیں۔پروگرام کی منتظمین میں شامل ایشانی نے کہا کہ ان کی تنظیم گزشتہ ڈیڑھ سال سے اسلام آباد میں مقامی حکومت اور جمہوریت کے فروغ کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومت گورننس کا تیسرا اور اہم ترین درجہ ہے، اس لیے جس طرح قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرائے جاتے ہیں اسی طرح بلدیاتی انتخابات بھی بروقت اور باقاعدگی سے ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ راتوں رات انتخابات ملتوی یا منسوخ کرنے کے بجائے ایک واضح اور مستقل نظام وضع کیا جائے تاکہ بار بار حلقہ بندیوں، انتخابی تیاریوں اور دیگر مراحل پر خرچ ہونے والے انسانی و مالی وسائل ضائع نہ ہوں۔ایشانی نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو مالی اور انتظامی خودمختاری دینا ضروری ہے، کیونکہ اختیارات کے ساتھ وسائل بھی نچلی سطح تک منتقل ہونا چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو اختیارات اور وسائل نہ ملنے کی صورت میں مقامی حکومتیں محض نمائشی ادارے بن کر رہ جائیں گی۔انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ عوام میں مقامی حکومت کے کردار اور اختیارات کے حوالے سے آگاہی پیدا کرے اور اس امر کو اجاگر کرے کہ کون سا کام وفاقی، صوبائی یا مقامی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلدیاتی اداروں میں خواتین، خصوصی افراد اور دیگر کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کی مؤثر شمولیت یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے، اس لیے فیصلہ سازی کے اداروں میں خواتین کی مناسب نمائندگی کو کم نہیں کیا جا سکتا۔سول سوسائٹی نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات مزید تاخیر کے بغیر کرائے جائیں، منتخب نمائندوں کو واضح اختیارات اور مالی وسائل دیے جائیں اور مقامی حکومت کے نظام کو مستقل بنیادوں پر مضبوط کیا جائے تاکہ شہریوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو سکیں۔

مزید خبریں