اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 23 لاکھ ریال سے تجاوز کرگیا۔
ایرانی ریال کی قدر پاکستانی روپے اور امریکی ڈالر سمیت بیشتر اہم کرنسیوں کے مقابلے میں مزید کم ہوگئی، تاہم پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایرانی کرنسی اب بھی طلب میں ہے۔
ایران جنگ کے بعد پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد ریال کی قدر میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر منافع کمانے کی امید پر ایرانی کرنسی خرید رہے ہیں۔
ایرانی مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 100 پاکستانی روپے کے بدلے 5 لاکھ 85 ہزار 842 ایرانی ریال مل رہے ہیں، جو گزشتہ روز کے 5 لاکھ 83 ہزار 516 ریال کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اس طرح ایک پاکستانی روپے کی قیمت تقریباً 5 ہزار 858 ایرانی ریال بنتی ہے۔
اسی طرح ایک امریکی ڈالر کی قدر 16 لاکھ 19 ہزار 512 ریال سے بڑھ کر 16 لاکھ 24 ہزار 371 ریال ہوگئی۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر اور یورو مزید مہنگے
ایرانی بلیک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 22 لاکھ 80 ہزار سے 23 لاکھ 10 ہزار ریال تک پہنچ گئی، جبکہ ایک یورو تقریباً 26 لاکھ 50 ہزار سے 26 لاکھ 80 ہزار ریال میں فروخت ہوا۔
ایرانی ریال کے مقابلے میں دیگر اہم کرنسیوں کی قدر بھی مضبوط ہوئی۔ ایک یورو 18 لاکھ 88 ہزار 746 ریال، برطانوی پاؤنڈ 21 لاکھ 99 ہزار 693 ریال، سوئس فرانک 20 لاکھ 7 ہزار 759 ریال، اماراتی درہم 4 لاکھ 42 ہزار 307 ریال اور سعودی ریال 4 لاکھ 33 ہزار 166 ریال کا ہوگیا۔
اسی طرح ایک ترک لیرا 33 ہزار 527 ریال، بھارتی روپیہ 17 ہزار 132 ریال اور چینی یوآن 2 لاکھ 56 ہزار 573 ریال میں تبدیل ہورہا ہے۔
ایرانی مرکزی بینک کی جانب سے مانیٹر کی جانے والی 45 کرنسیوں میں سے 42 کی قدر ایرانی ریال کے مقابلے میں بڑھ گئی۔
ایرانی ریال اس تاریخ تک خرید لیں! ’’راتوں رات ٹرپل منافع‘‘
پاکستانی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب برقرار
پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال اب بھی ایک اہم کرنسی بنا ہوا ہے، تاہم جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد گزشتہ چند ہفتوں میں اسے خریدنے کا رجحان کچھ کم ہوا ہے۔
مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کا پیکٹ اب کم از کم 5 ہزار سے 6 ہزار پاکستانی روپے میں خریدا اور فروخت کیا جارہا ہے، جبکہ اپریل میں یہی پیکٹ 8 ہزار سے 10 ہزار روپے تک میں دستیاب تھا۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ اوپن مارکیٹ ریٹ اب بھی ایرانی مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ سے زیادہ ہے۔











