اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) مالیاتی اداروں اور اہم انفرااسٹرکچر پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس ( اےآئی ) کے ذریعےسائبرحملوں کاخطرہ بڑھ گیا۔
اس حوالے سے نیشنل سائبرایمرجنسی ریسپانس ٹیم نے ایمرجنگ اےآئی سائبر خطرات پر ایڈوائزری جاری کردی ہے جس کے مطابق بینکوں کےکور بینکنگ سسٹمز، ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز سمیت تیل و گیس کی تنصیبات، واٹر یوٹیلیٹیز اوربجلی کےنیٹ ورکس، بجلی کی پیداوار اور تقسیم، مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹ کے نظام بھی نشانے پر ہیں، ظاہرکردہ اکاؤنٹ بیلنس میں رد وبدل سے صارفین میں خوف وہراس پھیل سکتا ہے۔
ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ اےآئی، خودکاربوٹس، بوٹ نیٹس اور ایجنٹک ٹولز سےحملوں کی رفتار اور پیچیدگی بڑھ رہی ہے، بینکوں کے اے پی آئیز، ادائیگی کے نظام اور صارفین کی ایپلی کیشنز پر حملوں کا خدشہ ہے۔
امریکا کا فی الحال فوری طور پر ایران پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں: ٹرمپ
جاری ایڈوائزری میں خودکار لاگ ان کی کوششوں، بار بار ناکام تصدیق پر نظر رکھنے، اسناد کی بھر مار، غیر معمولی اے پی آئی ریکویسٹس، ایپلی کیشن کنفیگریشن میں تبدیلی اور غیرمعمولی لین دین کے پیٹرنز پر نظر رکھنےکی سفارش کی گئی ہے۔
ایڈوائزری میں یورپی سپرمارکیٹس کے ریفریجریشن اور فریزر سسٹمز پر حملوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس سے منسلک آپریشنل سسٹمزپر حملوں کے جسمانی اور تجارتی نتائج بھی سامنے آئے ہیں تاہم یورپ کے واقعات میں اے آئی کے ملوث ہونے کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔
ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ صارفین کی ایپلی کیشنز اور کور بینکنگ ریکارڈ میں انٹیگریٹی چیک یقینی بنایاجائے، آزادانہ لین دین کی جانچ اور بوٹ سے چلنے والی کوششوں کی نگرانی سمیت بوٹ سے چلنے والے اےآئی سائبر حملوں کے خلاف تیاری کا جائزہ بھی لیا جائے۔











