سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
وہ غلط دعا جو ہم ہمیشہ مانگتے اور دیتے رہے
اللہ بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے
مرد کی گالی اور عورت کی چپیڑیں۔
عورت سزا نہیں دیتی، انتقام لیتی ہے ۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں اور کہتے بھی آئے ہیں کہ اللہ بیٹیوں کا نصیب اچھا کرے، جس سے مراد لڑکیوں کی شادی کے بعد شوہر کی طرف منتقلی اور اس کے بعد کی زندگی ہے۔
لیکن اب جیسے حالات چل رہے ہیں ہمیں یہ دعائیں کرنی چاہیے کہ اللہ بیٹوں کا نصیب اچھا کرے ۔ کیوں ہم نے کبھی بیٹوں کے اچھے نصیب کی دعا نہیں کی؟
کیوں ہمارے بزرگ یہ بھول گئے کہ ان کے بیٹوں کے ساتھ وہ ہوتی ہے جو وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہمارے والدین کے زمانے میں حالات کچھ اور تھے۔ بیویاں غربت میں، نا مساعد حالات میں، کم پڑھی لکھی ہونے کے باوجود، گزارہ کیا کرتی تھی لیکن اب معاملات یکسر بدل چکے ہیں۔
اب بیوی جو اپنے شوہر کے ساتھ کرتی ہے وہ اس مضمون میں بیان کرنا قدرے مشکل ہے۔
بعض لوگوں کو اس لیے اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ لڑکے ٹسوے نہیں بہاتے۔
مرد اگر بیوی کے ساتھ کسی معاملے پر بحث کے بعد شدید غصے میں آ جائے تو وہ اسے دو چار گالیاں جڑ دیتا ہے اور پھر اکثر اوقات بھول بھی جایا کرتا ہے
لیکن یاد رکھنا وہ عورت کبھی نہیں بھولتی،
وہ غصے میں رد عمل نہیں دیتی ،
وہ سکون سے، پلاننگ سے مردوں کی زندگی تباہ کرتی ہے۔
مرد غصے کی حالت میں جواب دیتا ہے تو عورت سکون، گاہے بگاہے، وقفے وقفے سے اپنے شوہر کا ذہنی توازن بگاڑنے کی ذمہ داری لے لیتی ہے۔
جیسا کہ میں نے شروع میں کہا کہ عورت سزا نہیں دیتی انتقام لیتی ہے کیونکہ سزا تو صرف ایک بار دی جاتی ہے۔
کسی بھی جرم کی، کسی بھی گناہ کی سزائیں مقرر ہیں،
اگر شوہر اپنے کسی غلط طرز عمل کی سزا ایک بار پا لے تو بات ختم ہو جانی چاہیے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کی بیوی کی نظروں میں تو بات کبھی بھی ختم نہیں ہوتی۔
آپ کی ایک گالی کے بدلے میں وہ زندگی بھر آپ کو نظر نہ آنے والی چپیڑے مارتی ہے،
وہ آپ کی روح کو گھائل کر دیتی ہے ،
جب آپ کام پر ہوں گے، مصروف ہوں گے، بیوی بچوں کے روزگار کی فکر میں سرگرداں ہوں گے، کہیں میٹنگ میں یا دوستوں کے درمیان بیٹھے ہوں گے تو بیوی آپ کو فون کرے گی، پرانا واقعہ دوبارہ کریدے گی ،ناراض ہوگی، آپ کا سارا ذہنی سکون برباد ہو جائے گا ۔یہ تو ہو گئی ٹیلیفونک واردات جس نے آپ کا سارا دن خراب کر دیا ۔
پھر دن بھر کی تھکن اور مزدوری کے بعد جب آپ سکون حاصل کرنے گھر پہنچتے ہیں تو اس کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر ایک اور اذیت میں آ جاتے ہیں،
وہ کچھ بھی کر سکتی ہے۔ کھانے میں آپ کو کیا پسند ہے وہ آپ کو کبھی نہ دے گی،
اگر آپ سلاد اور گھر کی روٹی کھانا چاہتے ہیں تو وہ آپ کو دستیاب نہ کرے گی، بچوں کو اگر آپ کسی بات سے روکتے ٹوکتے ہیں تو وہ چھپ چھپا کے اسی بات پر بچوں کو سپورٹ کر دے گی۔ پھر مگر مچھ کے آنسو روئے گی اپنے ماں باپ اور بہن بہنوئی کے آگے، جس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ اس کا شوہر ہی ہر معاملے میں قصوروار ہے۔
میں بیسیوں ایسے شوہروں کو جانتا ہوں جو ناکردہ گناہوں کی سزائیں کاٹتے ہیں یعنی کہ بیوی کے شکوک و شبہات کی بنا پر ان کی زندگی برباد کر دی جاتی ہے ۔
ازدواجی زندگی خراب ہونے کے باعث ان لوگوں کی نوکریاں اور کاروبار بھی تباہ ہوتے دیکھے ہیں میں نے
لیکن یہ مظلوم ہستی مگر مچھ کے آنسو بہانے والی مخلوق، یہ نہیں جان پاتی کہ اس کے شوہر کی زندگی اجیرن کرنے سے وہ اپنی زندگی کو بھی خراب کر رہی ہے، وہ خود سکون سے نہیں رہ پاتی، مالی پریشانیوں کا سامنا کرتی ہے لیکن شوہر سے انتقام لینے میں جو اسے چند لمحوں کی روحانی خوشی ملتی ہے اس سے آگے وہ نہیں دیکھ پاتی۔
عورت کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ میاں بیوی کا ہی ایک ایسا واحد رشتہ ہے دنیا میں، جس میں یا تو دونوں خوش رہ سکتے ہیں یا دونوں پریشان، ایسا ممکن نہیں ہے کہ ان کی لڑائی ہو تو بیوی خوشی محسوس کرے یا پھر خاوند اطمینان سے کام کرتا رہے، ایسا ہو نہیں سکتا ،
ازدواجی زندگی کے جھگڑوں میں میاں بیوی دونوں متاثر ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کی اولاد کو جو جزبانی اور نفسیاتی عوارض لاحق ہو جاتے ہیں ان کا پھر زندگی بھر کوئی اوپائے نہیں ہو پاتا اور پھر وہی بچے بڑے ہو کر ایک اور لڑاکا خاندان کی تشکیل کرتے ہیں۔
میں آپ سب لوگوں سے اور خاص طور پر بیٹوں والوں سے درخواست کروں گا کہ
آج کے بعد ہمیشہ اپنے بیٹوں کے اچھے نصیب کی دعا مانگا کریں۔











