سوات(روشن پاکستان نیوز) صوبہ خیبرپختونخواہ میں سوات کے علاقہ کبل میں پولیس اسٹیشن کے گیٹ کے قریب زور دار دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے، ہلاکتوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت علاقے میں مقامی نوجوانوں کا احتجاج اور امن مظاہرہ جاری تھا، جس کے باعث وہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، پولیس نے دھماکے کے خودکش حملہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جائے وقوعہ سے ایک انسانی سر بھی برآمد ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے، جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ طور پر خودکش حملہ آور کا ہو سکتا ہے۔
اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکے میں دس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں پولیس اہلکار اور شہری شامل ہیں، جبکہ متعدد ہلاکتوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے، تاہم ابتدائی شواہد کی بنیاد پر اسے خودکش حملہ قرار دیئے جانے کا امکان موجود ہے۔
روس کے دارالحکومت ماسکو کے ریسٹورینٹ میں دھماکا، 3 افراد ہلاک
ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینسز اور میڈیکل ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ روانہ کر دی گئیں، امدادی اہلکار زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے اور انہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کرنے میں مصروف ہیں، ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے، زخمیوں اور ممکنہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد کی تصدیق تحقیقات اور امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔
ڈی پی او سوات نے کہا ہے کہ دھماکے کی جگہ سے ایک انسانی سر بھی ملا ہے، جو مبینہ طور پر خودکش حملہ آور کا ہو سکتا ہے، فرانزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور دھماکے کی نوعیت سمیت تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کرنا شروع کر دیئے ہیں، سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔











