منگل,  27 اکتوبر 2026ء
نیا جان لیوا وائرس انسان میں منتقل، عالمی ادارہ صحت کی تصدیق

پیرس (روشن پاکستان نیوز)عالمی ادارہ صحت نے فرانس میں شمونڈا وائرس سے انسان کے متاثر ہونے کا پہلا کیس ریکارڈ کیا ہے، مریض جس کا مدافعتی نظام انتہائی کمزور ہو چکا تھا، اس انفیکشن کے باعث انتقال کرگیا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ شمونڈا وائرس (Shamonda virus) پہلے صرف جانوروں جیسے مویشیوں، بھیڑوں، بکریوں اور گھوڑوں میں پایا جاتا تھا۔

فرانس میں پہلی بار انسان میں شمونڈا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، متاثرہ شخص انتقال کرگیا، تاہم عالمی ادارہ صحت نے اسے فی الحال ایک الگ تھلگ کیس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عام لوگوں کے لیے وسیع پیمانے پر خطرے کے شواہد موجود نہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق وہ فرانسیسی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے، ادارے کا کہنا ہے کہ مزید معلومات سامنے آنے پر صورت حال سے آگاہ کیا جائے گا۔

شمونڈا وائرس بنیادی طور پر مویشیوں کو متاثر کرنے والا وائرس ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وائرس پہلی بار 1965 میں نائجیریا میں مویشیوں میں شناخت کیا گیا تھا۔

اس کے زیادہ تر کیسز گائے میں رپورٹ ہوئے ہیں، تاہم بھیڑ، بکری، گھوڑے اور الپاکا بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

مہنگائی، بیروزگاری اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف کئی یورپی ممالک میں مظاہرے

عالمی ادارہ برائے حیوانی صحت کے مطابق متاثرہ جانوروں میں بخار، اسہال اور دودھ کی پیداوار میں کمی جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ وائرس حاملہ جانوروں کے جنین کو بھی متاثر کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچھڑوں میں پیدائشی نقائص پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

یہ وائرس عموماً Culicoides نامی ایک انتہائی چھوٹے کیڑے، جسے عام طور پر مڈج کہا جاتا ہے، کے کاٹنے سے جانوروں میں منتقل ہوتا ہے۔

موجودہ شواہد کے مطابق شمونڈا وائرس عام طور پر ایک جانور سے دوسرے جانور میں براہ راست منتقل نہیں ہوتا، تاہم حاملہ متاثرہ جانور سے اس کے جنین میں وائرس منتقل ہوسکتا ہے۔

انسانوں کے لیے خطرہ کتنا ہے؟

یورپی مرکز برائے امراض کی روک تھام و کنٹرول کے مطابق متاثرہ شخص پہلے ہی ایک سنگین بیماری کا علاج کرا رہا تھا، جس کے باعث وہ عام آبادی کے مقابلے میں انفیکشن کے لیے زیادہ حساس ہوسکتا تھا، حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا شمونڈا وائرس نے مریض کی موت کا سبب بنا یا اس میں کوئی کردار ادا کیا۔

فی الحال شمونڈا وائرس کے لیے کوئی مخصوص علاج یا ویکسین دستیاب نہیں۔ ماہرین وائرس کے انسانی کیس کی مزید تحقیقات کے ساتھ ساتھ یورپ میں جانوروں میں اس کی موجودگی اور پھیلاؤ کی بھی نگرانی کررہے ہیں۔

مزید خبریں