لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں پولیس اہلکاروں کو کھانا اور مشروبات پیش کرنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس کے ضابطہ اخلاق، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور عوامی تحائف قبول کرنے کے معاملے پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پولیس کی گاڑی کا دروازہ کھول کر اہلکاروں کو کھانا اور جوس پیش کرتا دکھائی دیتا ہے، جس پر صارفین نے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے۔
ویڈیو پر سینکڑوں تبصروں میں بعض صارفین نے اس اقدام کو پولیس کے احترام اور اہلکاروں کی خدمات کے اعتراف کی علامت قرار دیا، جبکہ دوسروں نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو عام شہریوں سے کھانا یا مشروبات قبول کرنے چاہئیں۔ کچھ صارفین نے اس عمل کو ممکنہ طور پر غیر مناسب قرار دیتے ہوئے اسے تشہیر یا رشوت سے تشبیہ دی، تاہم ان الزامات کی تصدیق کے لیے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔
برطانیہ میں ہر چار منٹ بعد گاڑی چوری، ملزمان پر فردِ جرم کی شرح صرف 3 فیصد
کئی صارفین نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اگر مقصد ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے تو کھانا بے گھر افراد اور غریب خاندانوں کو فراہم کیا جانا چاہیے۔ بعض نے کھانے کی حفاظت پر تشویش ظاہر کی، جبکہ دیگر نے اسے معاشرے میں باہمی احترام اور مثبت تعلقات کی مثال قرار دیا۔
اس واقعے نے یہ سوال بھی اجاگر کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو عوام کی جانب سے پیش کیے جانے والے تحائف یا کھانے پینے کی اشیا قبول کرتے وقت کن اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ ایسے معاملات میں شفافیت اور یکساں ضابطوں کی اہمیت برقرار رہتی ہے، تاکہ پولیس کی غیر جانب داری اور عوامی اعتماد متاثر نہ ہو۔











