لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں سالمونیلا انفیکشن کے ایک وبائی پھیلاؤ کے باعث صحت کے حکام نے قومی سطح پر الرٹ جاری کردیا ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 13 اگست تک گزشتہ 12 ماہ کے دوران سالمونیلا انٹرٹائڈس کے 207 مصدقہ کیسز سامنے آچکے ہیں، جبکہ ایک شخص کی موت بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ متاثرہ افراد انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں موجود ہیں۔
برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (UKHSA) کے مطابق تحقیقات میں متاثرہ افراد کے کھانے پینے کی عادات کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر مریضوں نے بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے قبل گھر سے باہر تیار کیا گیا کھانا استعمال کیا تھا۔
فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی (FSA) کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں برطانیہ سے باہر سے درآمد کیے گئے انڈوں کے ساتھ ممکنہ تعلق سامنے آیا ہے۔ یہ انڈے زیادہ تر ریستورانوں، کیفے اور کیٹرنگ کے شعبے میں استعمال ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک آلودگی کا حتمی ذریعہ ثابت نہیں ہوا اور تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق اب تک برطانیہ میں تیار ہونے والے انڈوں یا پولٹری کو اس وبا سے منسلک کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ FSA نے صارفین کو انڈوں کو مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنے، ہاتھ اچھی طرح دھونے اور کھانے کو مکمل طور پر پکانے کی ہدایت کی ہے۔
برطانیہ میں ایرانی ہیکرز کی بڑی سائبر کارروائی، پاور پلانٹ چار دن تک غیر فعال رہا
UKHSA کے مطابق بیشتر مریضوں میں معدے اور آنتوں سے متعلق علامات سامنے آئیں، تاہم دستیاب معلومات رکھنے والے متاثرین میں تقریباً 38 فیصد کو علاج کے لیے اسپتال داخل ہونا پڑا، جبکہ دو افراد میں خون کے انفیکشن کی بھی تصدیق ہوئی۔
فوڈ سیفٹی حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈوں اور ان کے چھلکوں کو چھونے کے بعد ہاتھ صابن اور پانی سے اچھی طرح دھوئے جائیں اور کھانے کی تیاری کے دوران صفائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے۔











