فرینکفرٹ (روشن پاکستان نیوز): جرمنی کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک، فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر سامان کی منتقلی (بیگیج ہینڈلنگ) کے شعبے میں کام کرنے والے چار ملازمین میں ملیریا کی تصدیق ہوئی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حکام کو شبہ ہے کہ ایک متاثرہ مچھر بیرونِ ملک سے آنے والی پرواز کے ذریعے ہوائی جہاز میں چھپ کر جرمنی پہنچا اور ملازمین کو کاٹنے کے بعد بیماری منتقل ہوئی۔ اس نایاب صورتحال کو “ایئرپورٹ ملیریا” کہا جاتا ہے، جس میں ایسے افراد متاثر ہوتے ہیں جنہوں نے خود ملیریا سے متاثرہ علاقوں کا سفر نہیں کیا ہوتا۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے عملے کو ہدایت کی ہے کہ اگر بخار، سردی لگنے یا جسمانی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ محسوس ہو تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں اور ڈاکٹروں کو “ایئرپورٹ ملیریا” کے امکان سے بھی آگاہ کریں۔
دنیا کی 92 فیصد آبادی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر کینسر سے متاثر ہوگی، عالمی ادارہ صحت
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے پر بیماریوں کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات موجود ہیں، تاہم کبھی کبھار کوئی مچھر جہاز کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے، جسے مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ملیریا ایک خطرناک بیماری ہے جو متاثرہ مادہ اینوفیلیز مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ معلومات کی بنیاد پر مسافروں یا فرینکفرٹ کے مقامی رہائشیوں کے لیے اضافی خطرہ موجود نہیں ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔











