اتوار,  12 جولائی 2026ء
دنیا کی 92 فیصد آبادی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر کینسر سے متاثر ہوگی، عالمی ادارہ صحت

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دنیا کی 92 فیصد آبادی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر کینسر سے متاثر ہوگی اور ہر 5 میں سے ایک شخص کینسر میں مبتلا ہوگا۔

عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق برائے سرطان کی تازہ ترین گلوبل اسٹیٹس رپورٹ آن کینسر 2026 نے دنیا کو ایک سنگین خطرے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی آبادی کا 92 فیصد کسی نہ کسی سطح پر کینسر سے متاثر ہوگا اور ہر پانچ میں سے ایک فرد زندگی میں کینسر کا شکار بنے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر سے کینسر کے سالانہ 2 کروڑ 6 لاکھ نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، اموات کی تعداد 1 کروڑ سالانہ تک پہنچ چکی ہے، روزانہ 26 ہزار سے زائد زندگیاں ختم ہو رہی ہیں اور کینسر دل کی بیماریوں کے بعد دوسری بڑی قاتل بیماری بن چکا ہے۔

 2050 تک کیسز 3 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے، ہرسال 8 سے 10 ہزار پاکستانی بچے کینسر کا شکار ہوتے ہیں، پاکستان میں ہر سال 30 ہزار سے زائد خواتین چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں اور 15 ہزار سے زائد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

اس کے علاوہ سروائیکل کینسر پاکستانی خواتین میں تیسرا سب سے عام کینسر ہے جس میں سالانہ 5 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں، کم آمدنی والے ممالک میں علاج تک رسائی شدید محدود ہے جبکہ لاکھوں خاندان مالی اور ذہنی تباہی سے دوچار ہیں، اور بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران عالمی صحت کے نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔

پمز اسپتال میں نزلہ، زکام اور بخار کے مریضوں کو نہیں آنا چاہیے، وفاقی وزیر صحت

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کینسر کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور موجودہ رجحانات برقرار رہے تو آئندہ دہائیوں میں یہ بیماری ایک عالمی ایمرجنسی کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ناصرف مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اموات کی شرح بھی مسلسل بلند سطح پر برقرار ہے، جس کی بڑی وجہ دیر سے تشخیص، علاج میں تاخیر اور صحت کے نظام کی کمزوری ہے۔

اعداد و شمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2050 تک سالانہ نئے کیسز کی تعداد 35 ملین تک جا سکتی ہے، جو موجودہ سطح سے 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اس اضافے کے پیچھے آبادی میں اضافہ، عمر رسیدگی، ماحولیاتی آلودگی، غیر صحت مند طرزِ زندگی اور انفیکشنز جیسے عوامل کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جو کینسر کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔

رپورٹ کا ایک اہم پہلو علاج اور سہولیات میں عالمی عدم مساوات ہے، اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں چھاتی کے کینسر کی 5 سالہ بقا کی شرح 87 فیصد تک ہے، جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ صرف 42 فیصد رہ جاتی ہے۔

 اسی طرح بچوں کے کینسر میں امیر ممالک میں بقا کی شرح 80 فیصد سے زائد جبکہ غریب ممالک میں 30 فیصد سے بھی کم ہے، مزید یہ کہ کئی ممالک میں بنیادی سہولیات جیسے ریڈیو تھراپی تک دستیاب نہیں، جبکہ ضروری ادویات تک رسائی بھی محدود ہے۔

کینسر ناصرف ایک طبی مسئلہ ہے بلکہ ایک بڑا معاشی اور سماجی بحران بھی بن چکا ہے، عالمی سروے کے مطابق تقریباً 45 فیصد مریض شدید مالی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ نصف سے زائد افراد ذہنی صحت کے مسائل میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

مزید خبریں