واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ہم آج دوبارہ ایران پر سخت حملہ کرنے جا رہے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایرانیوں نے ہمارا بہترین ہیلی کاپٹر گرا دیا جس پر جوابی کارروائی ضروری تھی، ہیلی کاپٹر پر بڑا بم موجود تھا یہ خوش نصیب ہیں کہ وہ پھٹا نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو اب ڈیل پر دستخط کر دینے چاہیے اس کیلیے اچھی ڈیل ہے وہ ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔
وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل میرے بہت اچھے دوست ہیں
انہوں نے اعلان کیا کہ ہم ایران پر دوبارہ حملہ کرنے جا رہے ہیں، پاکستان کی درخواست پر ایران کو بریک دیا تھا، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کہنے پر جنگ بندی کی، میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی جنگ بندی کروائی تھی۔
امریکی عدالت نے غیر ملکی ملازمین کو جاری کیے جانیوالے ایچ ون بی ویزا سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی رد کردی
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر میرے بہت اچھے دوست ہیں، وہ دونوں ابھی بھی جنگ روکنے کیلیے کام کر رہے ہیں، ہم ایران کے ساتھ ایک بامقصد معاہدہ چاہتے ہیں، سابق امریکی صدر اوباما نے معاہدہ کر کے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کا راستہ دکھایا تھا لیکن ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں کہ تہران کا ایٹمی ہتھیار کا راستہ رک جائے، ہم ڈیل کے قریب تھے لیکن ایران میں بے وقوف لوگ بیٹھے ہیں۔
میں مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں امن چاہتا ہوں
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں امن چاہتا ہوں، ایران رک رہا ہے دیکھتے ہیں معاملات کہاں جاتے ہیں، تہران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہوگیا تھا، اس کو اب ایک اچھی ڈیل کر لینی چاہیے۔
ایران سے بات چیت مکمل ہو چکی ہے صرف معاہدے پر دستخط کرنے ہیں
انہوں نے کہا کہ ایران پر کل کی طرح آج بھی حملے کریں گے، میں پاور پلانٹس اور پلوں پر حملے کی تفصیلات نہیں دے سکتا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران سے بات چیت مکمل ہو چکی ہے صرف معاہدے پر دستخط کرنے ہیں، تہران کو صرف اتنا کرنا ہے معاہدے کی دستاویز پر دستخط کر دے، اس کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہم ڈیل کے قریب ہیں لیکن تہران معاملے کو ٹال رہا ہے۔











