اتوار,  31 مئی 2026ء
ترکیہ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

انقرہ (روشن پاکستان نیوز) : سعودی عرب کے بعد ترکیہ نے بھی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کر دی۔

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کہتے ہیں مسئلہ فلسطین کا حل مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا بنیادی نکتہ ہے، اسرائیل 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست تسلیم کرے تو علاقائی اتحاد میں شامل ہو سکتے ہیں۔

حاقان فیدان نے پاکستان، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک پر مشتمل علاقائی پلیٹ فارم بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حالات معمول پر آئیں تو ایران بھی مجوزہ علاقائی فورم کا حصہ بن سکتا ہے۔

انھوں نے کہا خطے کے تمام ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرنا چاہیے۔

غزہ فلوٹیلا کے کارکنوں پر مبینہ تشدد کے الزامات، اسرائیلی حکام کو عالمی تنقید کا سامنا

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوں۔ یہ امریکا کی حمایت سے قائم کیا گیا وہ فریم ورک ہے جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر سیاسی تصفیے کا حصہ ہے، جو ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی کوششوں سے بھی منسلک ہے۔

سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ وہ ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے یا اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے کو فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کرتا ہے۔ سعودی ولئ عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ اگر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا کوئی معاہدہ ہو تو اس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک واضح، قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی راستہ شامل ہونا چاہیے۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ غزہ جنگ کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی بات نہیں ہو سکتی۔

مزید خبریں