غزہ(روشن پاکستان نیوز) غزہ پٹی کی جانب انسانی امداد لے جانے والی ایک فلوٹیلا سے گرفتار کیے گئے کارکنوں نے اسرائیلی حراست کے دوران جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے متعدد کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دورانِ حراست انہیں تشدد، ہتک آمیز سلوک اور مبینہ جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب کارکنوں کو امدادی قافلے سے گرفتار کر کے اسرائیلی حراستی مراکز میں رکھا گیا۔
اس معاملے نے اس وقت مزید شدت اختیار کر لی جب اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر Itamar Ben-Gvir کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں وہ حراست میں موجود کارکنوں کا مذاق اڑاتے اور انہیں طنزیہ انداز میں مخاطب کرتے دکھائی دیے۔ اس ویڈیو کے بعد یورپی ممالک سمیت متعدد حکومتوں نے شدید مذمت کی ہے۔
بحری جہازوں کیلئے پیشگی اجازت لازمی قرار، ایران نے آبنائے ہرمز میں کنٹرول زون قائم کر دیا
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انسانی امداد کا قافلہ Gaza Strip کی جانب بڑھ رہا تھا اور اسے اسرائیلی بحریہ نے روکا۔ بعد ازاں مختلف ممالک نے اپنے شہریوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر وضاحت طلب کر لی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا گیا۔ تاہم مختلف یورپی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے حوالے سے نئی سفارتی بحث بھی جنم لے رہی ہے۔











