کچھ لوگوں کو ہمیشہ اچھے کاموں سے اختلاف ہوتا ہے، ہمیشہ منفی چیزیں سامنے نکال کر لاتے ہیں، انہیں کبھی آدھا گلاس بھرا ہوا دکھائی نہیں دیتا، یہ ہر مرتبہ گلاس آدھا خالی ہونے کی بات کرتے ہیں۔۔ انہیں ایک بڑے سفید اجلے کاغذ سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا یہ تو بس اس پر لگے ایک چھوٹے سے سیاہ داغ کو دیکھتے ہیں۔ اب بھلا بتائیے کہ ہماری قومی کرکٹ ٹیم کی اچھائیاں انہیں دکھائی نہیں دیتیں، یہ انہیں بدترین شکست کے طعنے مارتے ہیں، یہ کوئی بات نہ ہوئی کہ آپ یہ دیکھیں کہ ٹیم کتنے برے طریقے سے ہاری ہے، آپ یہ بھی تو دیکھیں ناں کہ کتنی مستقل مزاج ٹیم ہے۔
مستقل مزاجی اور ڈھٹائی میں تھوڑا ہی فرق ہوتا ہے مگر وہ سمجھنے والے کے لیے ہوتا ہے، اگر محسوس کریں تو۔۔۔ دیکھئے ناں، تمام پاکستانی قوم، ہر اہم میچ میں قومی کرکٹ ٹیم کی جیت کے لیے جائے نماز پر بیٹھ کر دعائیں مانگ رہی ہوتی تھی اور ہارنے پر تمام پڑھا ہوا کلام دادا دادی کو بخشنے کی دعا کرتی تھی، کبھی کسی بڑی ٹیم سے اچانک جیت جاتے ہیں اور کبھی بالکل ہی اناڑی ٹیم سے ہار جاتے تھے اور کوچ بے چارہ صبح کمرے سے مردہ برآمد ہوتا تھا، بے چارے شائقین اپنا ٹی وی توڑ دیتے تھے۔۔ اللہ کا کرم ہوا، یہ رحمت نہیں تو اور کیا ہے جس نے ملک کو عاقب جاوید جیسا چیف سلیکٹر دیا۔
ماشااللہ اب یہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو چکی ہے کہ پاکستانی ٹیم ہارے گی یا جیتے گی، اب الحمد للہ عاقب جاوید کی وجہ سے پوری قوم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہارنا ہی ہے بس میچ کے آخر میں صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ایک اننگز کے ساتھ کتنے رنز سے ہارے ہیں، شکریہ عاقب جاوید۔۔
یہ لخ لخ شکریہ پوری قوم بھیج رہی ہے اور یقین مانیں عاقب بھائی یہ آپ کے منہ کی تعریف نہیں ہے، آپ سے قبل اتنا مستقل مزاج پہلے کوئی سلیکٹر نہیں دیکھا تھا۔ آپ نے تو قوم کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ سب 1992ورلڈ کپ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے لیے دعائیں کرتے تھے آپ نے ان دعاوں میں ایسی تبدیلیاں کروا دی ہیں کہ 92کے باقی کھلاڑی بھی آپ کو جھولی پھیلا کر دعائیں دے رہے ہیں۔
یقین مانیں یہ آپ کی محنت ہی ہے کہ آپ نے عارضی معذوری کو مستقل معذوری میں تبدیل کر دیا یقیننا اس میں کوئی بھلائی آپ نے قوم کے لیے سوچ رکھی ہو گی کہ یہ کرکٹ چونکہ انگریز کافر کی ایجاد ہے اس لیے اس سے اچھا رزلٹ لینا بھی کفر ہے، جیتنا بھی حرام ہو گا۔ شاید یہی سوچ کر عاقب جاوید نے سب مسلمانوں کی بھلائی میں ایسی ٹیم بنائی ہو جو جیت سکتی ہو مگر اسے درخواست کی ہو گی کہ ہار جانا، کافروں کا کھیل جیتنا کون سی مہارت ہے، ہارنے میں ہی بھلائی ہے، اس کے لیے بھی شکریہ عاقب جاوید۔
عاقب جاوید چونکہ جدید کرکٹ کے بانی ہیں اس لیے انہوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم سلیکشن کا فرسودہ نظام بھی ختم کر دیا ہے، میرٹ چونکہ ایک فرسودہ رسم ہے اس لیے عاقب جاوید نے میرٹ کے فرسودہ نظام کو ختم کر دیا ہے، ڈومیسٹک کرکٹ سلیکشن کے لیے ایک فرسودہ پیمانہ تھا اسے بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اب پرانے دوست اپنے جس رشتے دار، عزیز کی سفارش کریں وہ کھلاڑی ٹیم کا حصہ بنے گا اور اگر وہ اچھا پرفارم نہیں کرے گا تو کوئی بات نہیں اپنا بچہ ہے چانس ملتا رہا تو کسی نہ کسی روز اچھا ضرور کھیلے گا۔
ویسے بھی اگر کھلاڑی اچھا نہیں کھیل رہا تو یہ تو کوچ اور کپتان کی غلطی ہے۔۔ وہ ٹیم کا کمبی نیشن نہیں بنا پا رہے، کھلاڑی میں صلاحیت تھی تو وہ گراونڈ تک پہنچا ہے، اس کے اچھا یا برا کھیلنے کی صورت میں یا تو کوچ ذمہ دار ہو گا یا کپتان۔۔ باالفرض محال اگر کھلاڑی پر بھی بات آ جائے تو ٹھیک ہے مگر اسے سلیکٹ کرنے والے سلیکٹر کی جس نے بات کی، عاقب ان کو جواب دینا جانتا ہے۔۔ اس شاندار تکنیک پر بھی شکریہ عاقب جاوید۔۔
دوسری بات یہ ہے کہ عاقب بھائی میڈیا کے سامنے آنے سے بھی نہیں کتراتے، یہ سامنے آتے بھی ہیں سوالات بھی ہوتے ہیں مگر اطمینان کے ساتھ سوال گندم کا جواب چنا دے کر چلتے بنتے ہیں، سوال بھی ہو گیا، جواب بھی مل گیا، مسئلہ بھی جوں کا توں۔۔ اس اطمینان پر بھی شکریہ عاقب جاوید۔
عاقب جاوید کا تعلق شیخوپورہ سے ہے، عاقب جاوید جب پہلی مرتبہ ٹیم میں شامل ہونے کے بعد جب شیخوپورہ پہنچے اور وہاں ان کا شیخوپورہ کرکٹ اسٹیڈیم میں استقبال کیا گیا، وہاں ایک میچ چل رہا تھا، واقفان حال کا کہنا ہے ایک بلے باز بہت بڑا ہارڈ ہٹر تھا، اس نے عاقب جاوید کو کہا کہ وہ اسے بالنگ کروائے لیکن عاقب نے بال نہیں کروائی۔۔ بتانے والے کہتے ہیں کہ عاقب کو یہ سن کر ہی پسینہ آ گیا تھا۔۔ جب بعد میں عاقب جاوید سے کسی دوست نے پوچھا کہ آپ اسے بالنگ کروا دیتے اس میں کیا ہرج تھا؟۔ عاقب نے کہا میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتا ہوں اگر میں اسے آوٹ کر دیتا تو شاید کوئی شور نہ مچاتا لیکن اگر وہ مجھے چوکا یا چھکا لگا دیتا تو میری بہت بدنامی ہوتی۔ اس بدنامی سے بچنے کا فیصلہ درست تھا، درست فیصلہ کرنے پر عاقب تیرا شکریہ۔
ایک دفتر میں نیا ملازم رکھا، انٹرویو میں اس نے بہت سے دعوے کیے کہ وہ کمپنی کے لیے اپنی جان بھی وار دے گا مگر وہ ہمیشہ دیر سے دفتر آتا اور جلدی گھر چلا جاتا۔۔ ایک روز مالک نے اسے بلایا اور پوچھا کہ تم اتنی دیر سے دفتر کیوں آتے ہو؟۔ ملازم نے کہا سر یہ سب میرے الارم کلاک کا قصور ہے، اس کی آواز نہیں آتی۔ مالک نے کہا اس کی آواز تیز کر لیا کرو۔۔ ملازم بولا سر۔۔ میرا الارم کلاک بدتمیز ہے، میں آواز اونچی کر کے سوتا ہوں، میری آنکھ لگتے ہی یہ اپنی آواز خودبخود کم کر لیتا ہے۔۔ مالک نے کہا میں تمہیں نوکری سے نکال دوں گا۔۔ ملازم چمک کر بولا سر غلطی الارم کلاک کی ہے اور نکالنے کی دھمکی آپ مجھے دے رہے ہیں، یہ نا انصافی ہے۔۔ مالک یہ جواب سن کر اپنی ہنسی روک نہیں پایا۔۔
اب یہی صورتحال عاقب جاوید کی ہے، وہ پی ایس ایل میں چار چھکے مارنے والے بلے باز کو ٹیسٹ میچ میں لے آتا ہے۔۔ پی ایس ایل میں چھکے مارنے کی خواہش میں آوٹ ہونے والے بلے بازوں کی وکٹ لینے والے بالروں کو ٹیسٹ میچ میں لے آتا ہے مگر یہاں نہ بلے باز چلتا ہے اور نہ بالر۔۔ ایسے میں عاقب جاوید کہتا ہے میری سلیکشن تو ٹھیک ہے، میں صحیح کھلاڑی لاتا ہوں مگر وہ صحیح کھیلتے نہیں ہیں اس میں میرا کیا قصور؟۔ نکالنا ہے تو ان کے کوچ کو نکالو یا کھلاڑی کو۔۔ اس پر مالک ہنس ہی سکتا ہے۔۔ آپ بھی ہنس لیجیے، کیوں اپنا خون جلاتے ہیں؟ ہنستے ہوئے یہ ہنسنے کا موقع فراہم کرنے والے عاقب جاوید کا شکریہ ادا کرنا نہ بھولیے گا۔۔ عاقب تیرا شکریہ۔۔











