بدھ,  09  ستمبر 2026ء
2050 تک کینسر کے نئے کیسز کی تعداد میں 67 فیصد اضافے کا امکان ہے، رپورٹ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) 2024 کے مقابلے میں 2050 تک کینسر کے نئے کیسز کی تعداد میں 67 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ انتباہ امریکن کینسر سوسائٹی (اے سی ایس) اور ڈبلیو ایچ او کے ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (آئی اے آر سی) کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ 2024 میں دنیا بھر میں کینسر کے 2 کروڑ 10 لاکھ کے قریب کیسز سامنے آئے جبکہ 98 لاکھ اموات ہوئیں۔

اس تخمینے سے عندیہ ملتا ہے کہ آئندہ چند دہائیوں دنیا کے ہر 5 میں سے ایک فرد کو زندگی میں کسی وقت کینسر کا سامنا ہوسکتا ہے جبکہ ہر 9 میں سے ایک مرد اور ہر 13 میں سے ایک خاتون کی کینسر سے ہلاکت کا خطرہ ہے۔

مگر 2050 میں کینسر کے سالانہ کیسز کی تعداد 67 فیصد اضافے سے 6 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

محققین نے بتایا کہ کینسر 21 ویں صدی کے چند بڑے طبی چیلنجز میں سے ایک ہے اور دنیا بھر میں اوسط عمر میں اضافے کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

پمز کی نگرانی کیلئے وزیر صحت نے اہم فیصلہ کرلیا

انہوں نے مزید بتایا کہ اس مرض کے پھیلاؤ کی شرح کو سمجھنے سے کینسر کو کنٹرول میں رکھنے یا روک تھام کے حوالے سے مدد مل سکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کینسر سے ہونے والی لگ بھگ 50 فیصد اموات سے بچنا ممکن ہے جس کے لیے جلد تشخیص اور بروقت علاج کو ممکن بنانا ضروری ہے۔

آئی اے آر سی کے ڈیٹا بیس کے مطابق 186 ممالک میں کینسر کی 34 اقسام کے کیسز اور اموات میں اضافہ ہوا۔

مگر تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دنیا کے ہر خطے میں کینسر یکساں انداز سے نہیں پھیل رہا۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں اس کی شرح زیادہ ہے جبکہ افریقا اور جنوبی و وسطی ایشیا میں شرح کم ہے۔

پھیپھڑوں کا کینسر اس وقت دنیا بھر میں اس مرض کی سب سے عام قسم ہے اور 2024 کے دوران اس کے لگ بھگ 26 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 19 لاکھ اموات ہوئیں۔

بریسٹ کینسر دوسری عام ترین قسم ہے جس کے 24 لاکھ کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ 6 لاکھ 94 ہزار اموات ہوئیں۔

آنتوں کا کینسر دنیا بھر میں اس مرض کی تیسری عام ترین قسم ہے جبکہ اموات کی دوسری بڑی قسم ہے جس کے 20 لاکھ سے زائد نئے کیسز سامنے آئے اور 9 لاکھ 18 ہزار اموات ہوئیں۔

جگر کے کینسر کے 8 لاکھ 43 ہزار کیسز جبکہ 7 لاکھ 32 ہزار اموات ہوئیں، اس طرح یہ اموات کے لحاظ سے کینسر کی تیسری بڑی قسم ہے۔

مردوں میں مثانے کا کینسر دوسرا عام ترین کینسر ہے جبکہ اموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے جس کے 15 لاکھ کیسز اور 4 لاکھ 20 ہزار اموات کو ریکارڈ کیا گیا۔

معدے، سروائیکل اور لبلبے کے کینسر بھی کافی تیزی سے عام ہو رہے ہیں۔

معدے کے کینسر کے 9 لاکھ 80 ہزار کیسز سامنے آئے جبکہ 6 لاکھ 42 ہزار اموات ہوئیں۔

تھائی رائیڈ کینسر کے بھی لگ بھگ 9 لاکھ 59 ہزار کیسز کی تصدیق ہوئی اس طرح اسے دنیا میں کینسر کی چھٹی سب سے عام قسم قرار دیا گیا۔

مزید خبریں