منگل,  11  اگست 2026ء
ہم کس طرف جا رہے ہیں؟
میں اور میرا دوست

ہم کس طرف جا رہے ہیں؟
میں نے اپنے دوست سے پوچھا: یار ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔”

وہ مسکرایا اور بولا:
تمہیں سمجھ میں آ جائے تو پھر تم سوال کرنا چھوڑ دو گے، اور جس دن تم نے سوال کرنا چھوڑ دیا، شاید تمہارا کالم بھی ختم ہو جائے گا۔.. پوچھو آج کون سا سوال پریشان کر رہا ہے؟”
میں نے کہا:
آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جبہ، قبہ، بڑی دستار، لمبا قافلہ، شاہانہ پروٹوکول اور عقیدت مندوں کا ہجوم دیکھ کر ہم فوراً متاثر ہو جاتے ہیں؟؟؟ کسی کے نام کے ساتھ پیر، عامل، بابا یا روحانی شخصیت کا تاثر جڑ جائے تو لوگ اپنی ضروریات روک کر بھی نذرانہ پیش کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ خود گھر میں حالات جیسے بھی ہوں، چھوٹے بچوں کا کھلونا لیا کہ نہ لیا۔۔ ماں باپ کےلیے نئے کپڑے خریدے کہ نہ خریدے۔۔ انکے کےلیے گوشت خریدا کہ نہ خریدا۔۔ لیکن عقیدت کے اظہار میں کمی نہیں آنی چاہیے۔۔۔۔

میرا دوست کچھ دیر خاموش رہا۔

میں نے بات جاری رکھی:

“اور پھر یہی لوگ اگر کسی سادہ لباس والے حافظِ قرآن، عالم باعمل، استاد یا ایسے صاحبِ علم کے پاس بیٹھیں جو دین بھی سمجھتا ہو اور دنیا بھی، جو انہیں محنت، علم اور حلال رزق کی بات بتائے، تو اکثر وہ گفتگو انہیں اتنی متاثر نہیں کرتی۔

کیوں؟؟؟

کیا ہمیں دین سے زیادہ دین کی نمائش پسند آنے لگی ہے؟

کیا ہمیں علم سے زیادہ شخصیت کا رعب متاثر کرتا ہے؟

یا ہم اپنی مشکلات کا حل بھی شارٹ کٹ میں چاہتے ہیں؟”

دوست نے میری طرف دیکھا اور بولا:

“شاید مسئلہ یہی آخری بات ہے۔ شارٹ کٹ۔”

میں نے پوچھا: آخر کس طرح کا شارٹ کٹ؟؟

کہنے لگا:

“اگر ایک عالم تمہیں کہے کہ رزق بہتر کرنا ہے تو تعلیم حاصل کرو، ہنر سیکھو، محنت کرو، دیانت اختیار کرو اور اللہ سے دعا کرو یہ راستہ لمبا محسوس ہوتا ہے۔

لیکن اگر کوئی جعلی عامل کہے کہ یہ تعویذ رکھ لو، فلاں عمل کرا لو، تین دن میں کاروبار چل پڑے گا، سات دن میں محبوب قدموں میں ہوگا، رشتہ واپس آ جائے گا اور دشمن برباد ہو جائے گا تو پریشان انسان کو دوسرا راستہ آسان دکھائی دیتا ہے۔”

اس کی بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا۔

میں نے کہا:

“لیکن بات صرف پیسے تک محدود نہیں۔ جعلی روحانی علاج، کالا جادو اور عملیات کے نام پر لوگوں کو خوفزدہ کرنے، مالی طور پر لوٹنے اور بعض واقعات میں خواتین کے جنسی استحصال تک کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس کے باوجود لوگ ایسے کرداروں کے پاس کیوں جاتے ہیں؟”

دوست نے جواب دیا:
خوف۔۔ خوف
“کیونکہ خوف انسان کی عقل پر پردہ ڈال سکتا ہے۔ جب کسی ماں کو کہا جائے کہ تمہارے بچے پر جادو ہے، کسی بیوی کو بتایا جائے کہ شوہر پر بندش ہے، کسی نوجوان کو یقین دلایا جائے کہ ناکامی کی وجہ کسی دشمن کا عمل ہے، تو مسئلے کا حقیقی سبب تلاش کرنے کے بجائے انسان ایک پراسرار جواب کو پکڑ لیتا ہے۔ پھر خوف پیدا کرنے والا ہی خود کو نجات دہندہ بنا کر پیش کرتا ہے۔”

میں خاموش ہوگیا۔

پھر میرے ذہن میں موبائل فون آیا۔

میں نے کہا:

“یار! یہی کہانی تو سوشل میڈیا پر بھی چل رہی ہے۔

ایک نوجوان مہینوں محنت کرکے کوئی ہنر سیکھتا ہے، اچھی تحقیق کرتا ہے، کتاب پڑھ کر علم کی بات کرتا ہے، کوئی سائنس کا تجربہ دکھاتا ہے، کوئی اچھا کاروباری آئیڈیا دیتا ہے، کوئی اصلاحی ویڈیو بناتا ہے چند سو یا چند ہزار لوگ دیکھتے ہیں۔

اور دوسری طرف ناچ گانا، فضول تماشا، گالی گلوچ، بے ہودگی، مصنوعی لڑائیاں اور نجی زندگی کی نمائش ہو تو لاکھوں ویوز!

آخر کیوں؟”

میرا دوست ہنسا نہیں۔

اس بار اس کا چہرہ سنجیدہ تھا۔

کہنے لگا:

“کیونکہ بازار وہی چیز زیادہ دکھاتا ہے جس پر لوگ زیادہ رکیں۔ پہلے بازار میں دکاندار ہماری پسند دیکھتا تھا، اب موبائل کا الگورتھم دیکھتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دکاندار دکان بند کرکے گھر چلا جاتا تھا، الگورتھم چوبیس گھنٹے ہمارے ہاتھ میں رہتا ہے۔”

میں نے کہا:

“تو پھر قصور سوشل میڈیا کا ہے؟”

وہ فوراً بولا:

“نہیں۔ صرف سوشل میڈیا کو الزام دے کر ہم خود بری نہیں ہو سکتے۔ آخر انگلی ہماری ہے، اسکرین ہماری ہے اور انتخاب بھی بڑی حد تک ہمارا ہے۔”

یہ جملہ مجھے اندر تک لگا۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہوگیا۔

لیکن یہ معاشرہ آخر ہے کون؟

میں، آپ، ہمارے بچے، ہمارے گھر اور ہماری ترجیحات ہی تو معاشرہ ہیں۔

ہم جس ویڈیو کو دیکھتے ہیں، اسے آگے بھیجتے ہیں، جس شخصیت کو مشہور کرتے ہیں، جس جھوٹے عامل کے سامنے قطار بناتے ہیں، جس دکھاوے کو روحانیت سمجھتے ہیں۔ اور جس صاحبِ علم کی سادگی کو معمولی سمجھ کر گزر جاتے ہیں وہی ہماری اجتماعی ترجیح بن جاتی ہے۔

ہمیں شاید خود سے ایک مشکل سوال پوچھنا ہوگا:

ہمیں حقیقت چاہیے یا تماشا؟

ہمیں ایسا عالم چاہیے جو سچ بتائے، یا ایسا شخص جو وہی بتائے جو ہم سننا چاہتے ہیں؟

ہمیں ایسا استاد چاہیے جو کہے “محنت کرو”، یا ایسا بابا جو کہے “نذرانہ دو، کام ہو جائے گا”؟

ہمیں اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر خوشی ہوتی ہے یا موبائل پر لاکھوں فالوورز دیکھ کر؟

ہم کردار کو کامیابی سمجھتے ہیں یا شہرت کو؟

میرا دوست کہنے لگا:

“مسئلہ دستار میں نہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم دستار کو کردار کا سرٹیفکیٹ سمجھ لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسئلہ لباس میں نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم لباس دیکھ کر علم اور تقویٰ کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور مسئلہ شہرت میں بھی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم شہرت کو قابلیت سمجھ بیٹھتے ہیں۔۔۔۔۔

میں نے کہا:

“تو حل کیا ہے؟”

وہ بولا:

“لوگوں کو صرف یہ مت بتاؤ کہ کیا غلط ہے۔ انہیں فکر دو۔ سوال کرنا سکھاؤ۔”

اور شاید یہی اس کالم کا مقصد بھی ہے۔

انسان کو نام، لباس، فالوورز اور پروٹوکول سے نہیں اس کے علم، کردار، عمل اور انسانوں کے ساتھ رویے سے پرکھنا چاہیے۔

ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ شعور دینا ہوگا کہ وائرل ہونا عظمت کی دلیل نہیں، دولت کامیابی کا مکمل پیمانہ نہیں، بڑی گاڑی عزت کی سند نہیں اور بڑی دستار ولایت کا سرٹیفکیٹ نہیں۔

علم خاموش بھی ہوسکتا ہے۔

کردار سادہ لباس میں بھی ہوسکتا ہے۔

اور بعض اوقات سچ کے پاس نہ پروٹوکول ہوتا ہے، نہ قافلہ، نہ لاکھوں فالوورز۔

مگر سوال یہ ہے کہ

کیا ہمارے پاس اتنا وقت ہے کہ ہم شور سے نکل کر سچ کو تلاش کریں؟

میں نے اپنے دوست سے آخری سوال کیا:

“کیا ہم اب بھی اس معاشرے کو ایک نئی فکر دے سکتے ہیں؟”

وہ مسکرایا اور بولا:

“کیوں نہیں؟ تبدیلی ہمیشہ لاکھوں لوگوں سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی ایک سوال ایک ذہن بدلتا ہے، ایک ذہن ایک گھر بدلتا ہے، ایک گھر ایک نسل بدل دیتا ہے۔”

میں نے موبائل میز پر رکھا اور سوچنے لگا

شاید ہمیں دنیا بدلنے سے پہلے اپنی انگلی کا رخ بدلنا ہوگا۔

جس دن ہم تماشے کو نظرانداز کرکے علم کو دیکھنا شروع کردیں گے، جعلی شارٹ کٹ کے بجائے محنت کا راستہ اپنائیں گے، شخصیت پرستی کے بجائے کردار کو اہمیت دیں گے اور اپنے بچوں کو شہرت کے بجائے شعور کی قدر سکھائیں گے، اسی دن معاشرے کا رخ بھی بدلنا شروع ہوجائے گا۔

کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ

“دنیا کس طرف جا رہی ہے؟”

اصل سوال یہ ہے:

“ہم کس طرف جا رہے ہیں؟”

اور اس سے بھی بڑا سوال

ہم اپنی اگلی نسل کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں؟

تحریر/ ندیم طاہر۔

مزید خبریں