اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ آئین میں دی گئی ضمانتوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے، ہمیںقائداعظم کی تصویر اور تقریروں کے بجائے ان کے نظریات اور سوچ پر عمل کرنا ہوگا،آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں، اس لیے اقلیتوں کو تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، حکومت کو چاہیے کہ اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے موجود قوانین اور اداروں کو مؤثر بنائے اور ان پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے،انہوں نے ان خیالات کا اظہارپارلیمنٹرین کمیشن فار ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام قومی اقلیتی دن کے موقع پر نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا،سیمینارسےرکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ کے علاوہ سینیٹر کامران مائیکل، چوہدری شفیق، پنڈت راکیش چند،افضل بٹ اور فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام پنجاب وحید جاوید ایڈووکیٹ اوردیگر مقررین نےبھی خطاب کیا، جبکہ طارق چوہدری، سحرش قریشی، طارق ورک، بلال ڈارسمیت سینئر پارلیمنٹیرینز، اقلیتی حقوق کے رہنماؤں، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ،مقررین نے کہا کہ 11 اگست کا دن پاکستان میں بسنے والی غیر مسلم برادریوں کی ملکی ترقی، تعمیر اور استحکام میں خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے، تاہم اقلیتوں کے حقوق اور ان کے مسائل صرف ایک دن تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ آئین میں دی گئی ضمانتوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔ریاض فتیانہ نے کہا کہ 11 اگست محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اس تصور کی یاد دہانی ہے جس کے مطابق پاکستان میں ہر شہری کو اپنے مذہب اور عبادت کے حوالے سے مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ اگر ہم قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں تو صرف ان کی تصویر اور تقریروں تک محدود رہنے کے بجائے ان کے نظریات اور سوچ پر بھی عمل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ قراردادِ پاکستان، قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر اور 1973 کا آئین، سب شہریوں کے مساوی حقوق کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں، اس لیے اقلیتوں کو تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ریاض فتیانہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے میں بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ریاست کو واضح رہنمائی دی گئی تھی۔ حکومت کو چاہیے کہ اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے موجود قوانین اور اداروں کو مؤثر بنائے اور ان پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی تعصب اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تعلیم، برداشت، باہمی احترام اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کے مطابق مختلف مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے مشترکہ سرگرمیوں، کلبز اور ایسوسی ایشنز کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔سینیٹرکامران مائیکل نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے متعدد قوانین موجود ہیں، لیکن اصل مسئلہ ان قوانین پر مکمل عملدرآمد کا ہے۔ ہندو میرج بل سمیت اقلیتوں سے متعلق قانون سازی ہوئی ہے، جبکہ کرسچن میرج قانون سازی بھی کی گئی، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ موجود قوانین کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے صرف پارلیمنٹیرینز ہی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے بغیر قانون سازی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ مذہبی رہنماؤں کو بھی اپنے خطبات اور پیغامات کے ذریعے محبت، اخوت، برداشت اور احترام کا درس دینا چاہیے۔کامران مائیکل کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سبز و سفید پرچم اس بات کی علامت ہے کہ اس ملک میں مسلمان اور غیر مسلم سب برابر کے شہری ہیں۔ سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کی حرمت و حفاظت بھی ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو ایسا پاکستان دینا ہوگا جہاں ہر بچہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکے اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کرے۔چوہدری شفیق نے کہا کہ 11 اگست اقلیتی برادریوں کے لیے خوشی کے ساتھ ساتھ احتساب کا دن بھی ہے۔ اس دن پارلیمنٹ میں موجود نمائندوں سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ انہوں نے اقلیتوں کے حقوق اور مسائل کے حل کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات کیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی اور تعمیر میں اقلیتی برادریوں نے بھی نمایاں کردار ادا کیا، مگر بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ان کی خدمات کو فراموش کیا گیا۔ اقلیتوں کے تعلیمی اداروں اور دیگر اداروں کے حوالے سے ماضی میں کیے گئے فیصلوں نے بھی ان کے مسائل میں اضافہ کیا۔چوہدری شفیق نے کہا کہ پاکستان کسی ایک مذہب یا برادری کا نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا ملک ہے۔ مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی برادریاں اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ سب سے پہلے پاکستانی ہیں اور ملک کی سلامتی، بقا اور استحکام کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کو ہر سال اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں ان کے مثبت رویوں، پاکستان سے محبت اور ملکی ترقی میں کردار سے سیکھنا چاہیے اور مذہبی رواداری، مساوات، اخوت اور باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے۔پی ایف یو جے کے صدرافضل بٹ نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح کا تصور واضح تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں رہنے والے تمام شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں اور یہی قائداعظم کے پاکستان کی اصل روح ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ گزشتہ 18 برس سے مسیحی صحافیوں کے ساتھ کرسمس کی تقریبات منعقد کرتا آ رہا ہے۔ کرسمس کے موقع پر مسیحی صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو نیشنل پریس کلب میں مدعو کیا جاتا ہے، ان کے بچوں کے لیے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں اور انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اس ملک اور معاشرے کا برابر حصہ ہیں۔افضل بٹ نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی صرف تقریروں اور نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے فروغ پاتی ہے، اور اس کا آغاز اپنے گھر اور اپنے اداروں سے ہونا چاہیے۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں بسنے والی تمام مذہبی برادریوں کے درمیان باہمی احترام، برداشت، محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔تقریب کے دوران بچیوں نے خوبصورت آواز میں ملی نغمے پیش کیے جس سے تقریب کا ماحول مزید خوشگوار اور حب الوطنی کے جذبات سے بھرپور ہوگیا۔











