اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان کے خلاف بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات بے بنیاد اور کئی برس سے دہرائے جانے والے پرانے بیانیے کا حصہ ہیں۔
سحر کامران نے Al Qahera News کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا حامی نہیں بلکہ خود اس کا شکار ہے، جبکہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کو بھارت کی مبینہ ریاستی سرگرمیوں کا واضح ثبوت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا بھی پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے مترادف ہے، جس سے پاکستان میں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی نے اقتدار نہیں، قومی مفاد کو ترجیح دی، سحر کامران
سحر کامران کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون نے خطے میں نئی صورتحال پیدا کی ہے، جس کے باعث بھارت میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر سکیورٹی، استحکام، ترقی اور قابلِ اعتماد ثالثی کے حوالے سے اہم مقام حاصل ہو رہا ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے بھارت کی ہندوتوا پالیسیوں اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو دبانے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی حالیہ الزام تراشی دراصل اپنی عالمی ساکھ میں کمی اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
سحر کامران نے واضح کیا کہ پاکستان کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔











