تحریر: سید شہریار احمد
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
معاشرے سیکس سے تباہ نہیں ہوتے ؟
مذاہب کی لاعلاج بیماریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ سوچنے سمجھنے، غور و فکر کرنے کی صلاحیت ، تحمل سے سننے اور برداشت کرنے، کسی نئے نظریے یا فلسفہ کو قبول کرنے کی قابلیت، انسانوں سے ایسے واپس لے لیتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔
یہ بات اس لیے میرے خیال میں آئی ہے کہ گزشتہ روز میں نے فیس بک پہ ایک پوسٹ دیکھی شوگر ممی اور شوگر ڈیڈی کا جو نیا رجحان پاکستان میں متعارف ہوا ہے اس کے حوالے سے
اور اس کے بعدپھر جو مذہبی لوگوں نے اپنی کامنٹس شیئر کئے ہیں وہ میرے لیے کوئی چونکا دینے والے ہرگز نہ تھے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مذہبی ذہن، معاشرے کی تمام بیماریوں کی جڑ ،صرف عورت اور مرد کے تعلق کو ہی سمجھتا ہے۔
شوگر ممی ،شوگر ڈیڈی کے حوالے سے جو تبصرے ہوئے اس میں پاکستان کی اساس،
اس کے نظریے،
اسلامی ریاست کے اصول، سب کچھ چیلنج کیا گیا تھا اور جو مذہبی دانشور وہاں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے وہ یہی فرما رہے تھے کہ شوگر ممی اور شوگر ڈیڈی جیسا نیا رجحان متعارف کرا کر ملک کی اسلامی ریاست کی جڑیں کھوکھلی کی جا رہی ہیں۔
میں نے جیسا کہ شروع میں عرض کیا ہے کہ مذہبی ذہن بصارت، بصیرت اور سماعت سب سے محروم ہو چکا ہوتا ہے لہذا اس سے اسی قسم کے تبصروں کی ہی توقع ہونی چاہیے
کیونکہ وہ تصویر کے دوسرے رخ یہ کسی اور معاشرتی مسئلے کی طرف رجوع نہیں کر پاتے ۔
اب آپ غور فرمائیں ہمارے ملک میں کسی زمانے میں ہر جگہ بازار حسن ہوا کرتے تھے،
جنرل ضیاء الحق نے جب اس ملک کو زیادہ اسلامی بنانے کا سوچا تو اس نے ریڈ لائٹ ایریاز ، فحاشی کے معروف اڈے ختم کرا دیے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہی فاحشآئیں، طوائفیں، ناچ گانے والیاں ،محلے محلے میں پھیل گئیں،
شہروں میں، گاؤں میں آباد ہو گئیں جس سے نوجوان نسل کو ایسی عورتوں سے جو پیسہ لے کر جنسی لذت مہیا کرتی تھیں تلاش کرنے میں آسانیاں ہوئیں۔
ہمارا حکمران طبقہ ،ہماری اشرافیہ! ہماری ایلیٹ،
سوچ بچار ،فکر !دانشمندی اور مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتے ہوتے تو آج ہمارے ملک میں سود، حرام خوری! ذخیرہ اندوزی، آبرو ریزی، زمینوں پر ناجائز قبضہ جیسے مسائل کسی حد تک کم ہوتے ۔
2005 میں جب پاکستان میں بہت بھیانک زلزلہ آیا جس سے بالاکوٹ ،مظفرآباد تباہ ہوئے ، اسلام آباد کافی حد تک متاثر ہوا اور جس کے بعد ناجائز قسم کے علماء ،دو نمبر مولویوں اور منافق پڑھے لکھے شہریوں نے بھی یہ باتیں بڑی دلچسپی اور شوق سے سنائیں کہ اسلام آباد میں مارگلہ ٹاور میں زنا ہوتا تھا اس لیے زلزلے میں وہ منہدم ہو گیا جبکہ میں مارگلہ ٹاورز کے کچھ خاندانوں کو بخوبی جانتا تھا جو بڑے نیک، دیندار اور ملنسار لوگ تھے
لیکن کہنے والے کہتے رہے کہ وہاں زنا ہوتا تھا اس لیے مارگلہ ٹاور گر گیا ۔
اگر زنا سے مکانات اور عمارتیں گرنے لگیں تو پاکستان کے لگ بھگ 50 فیصد گھر، اپارٹمنٹس، عمارتیں! زمین بوس ہو چکی ہوں ۔
جنسی بے راہ روی اور زنا سے اگر معاشرے تباہ ہونے لگیں تو امریکہ اور سارا یورپ صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہو جبکہ اس کے برعکس وہ اس وقت دنیا پر راج کر رہے ہیں بلکہ ناجائز بچے پیدا کرنے میں بھی باقی اقوام سے آگے ہیں اس کے باوجود ان پر خدا کا قہر نازل نہیں ہوتا ،
وہ اس لیے کہ وہ انسانوں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ،
حکمران مظلوم کی آواز سنتے ہیں،
عدلیہ مجرموں کا ساتھ نہیں دیتی،
تو ایسے ممالک میں حکمرانوں ،فوج ،آیلیٹ کلاس کے افراد یا ان کے بچے، کوئی جرم کرتے ہیں تو سزا سے صاف نکل نہیں جاتے۔
یورپ اور امریکہ میں کیونکہ جنسی آزادی حاصل ہے اس لیے وہاں چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں
جبکہ ایسے مسلمان ممالک میں جہاں کے لوگ اپنے آپ کو اشرف مخلوقات کہتے ہیں اور اپنے پیغمبر اور اپنی الہامی کتاب کو دنیا کے بہترین پیغمبر اور مقدس کتاب کہتے ہیں وہاں کے معاشرے میں ان تمام پیغمبروں کی اقوام کے گناہ سرزد ہوتے ہیں جن کی بنا پر خدا نے ان پیغمبروں کی اقوام کو عذاب الہی سے عبرت ناک سزائیں دیں۔
آپ قران میں پڑھیے حضرت لوط کی قوم کس گناہ کی مرتب ہوئی؟
حضرت نوح کی قوم کو کس لیے عذاب الہی ملا؟
حضرت شعیب کے پیروکار کیوں قہر خداوندی کی زد میں آئے؟
لہذا ایسے مذہب پرستوں کو میرا دور سے سلام
جو ملک میں ہر خرابی کی جڑ عورت اور مرد کے تعلق کو سمجھتے ہیں۔
اب میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے پڑھنے والے ،
شوگر ممی اور شوگر ڈیڈی کو نیٹ پہ جا کر سرچ کریں گے۔😉











