جمعرات,  24  ستمبر 2026ء
افغانستان میں 10 مقامات پر پاکستانی فضائی و ڈرون حملے، وزیر اطلاعات کی تصدیق

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان نے افغانستان سے آنے والے ڈرون حملوں کے جواب میں افغانستان کے 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون کارروائی کی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے جمعرات کو کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان مقامات کو ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان نے یہ کارروائی اپنے دفاع کے خودمختار حق کے تحت کی، جبکہ حملے انتہائی محدود، درست اور متناسب تھے اور صرف ان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستان پر ہونے والے ڈرون حملوں سے براہ راست منسلک تھے۔

وزیر اطلاعات نے 23 ستمبر کو افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے ڈرونز کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام درانداز ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا تھا۔

افغانستان کے ہندوکش ریجن میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.9 ریکارڈ

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغان سرزمین سے دہشت گردی یا کسی بھی قسم کے حملے کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر، قابلِ تصدیق اور مستقل کارروائی کریں۔

دوسری جانب افغان حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ رات گئے جنوبی شہر قندھار میں بھی دھماکے کی آواز سنی گئی، جبکہ مشرقی صوبوں پکتیا اور خوست میں بھی پاکستانی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پکتیا کے گورنر کے ترجمان کے مطابق 203ویں منصوری کور کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا، تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

پاکستانی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے اور کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا، تاہم اس عزم کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کو برداشت کرنے کی علامت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیز کارروائی کا پاکستان کی جانب سے مضبوط اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

مزید خبریں