پیر,  24  اگست 2026ء
سابق وزیراعظم عمران کا اسپتال سے علاج کے بعد دیگر قیدیوں کا کیس بھی عدالت پہنچ گیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) بانی پی ٹی آئی کے نجی اسپتال سے علاج کے معاملے کے بعد اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں کے علاج اور اہل خانہ سے رابطے کے لیے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواستیں سماعت کے لیے پیش ہو گئی ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد آصف نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

اس دوران قیدی محمد اسماعیل خان کے وکیل بیرسٹر اختر چھینہ اور درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر ایڈووکیٹ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت میں دلائل دیتے ہوئے بیرسٹر اختر چھینہ نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ہیموفیلیا کی بیماری میں مبتلا ہے اور اسے اندرونی بلیڈنگ کی شکایت ہے۔ اسے دو ماہ کے دوران دس مرتبہ اسپتال لایا گیا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا، جبکہ اس مرض کا علاج پاکستان میں فی الحال صرف شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ہی ممکن ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں ممکن نہ ہو تو قیدی کو نجی اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق علاج کے اخراجات قیدی کے اہل خانہ خود برداشت کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے استدعا کی کہ اس معاملے پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔

ایران کے ساتھ جنگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا، برطانوی اخبار

دوسری جانب درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو بخار اور دل کا مرض لاحق ہے، اور مناسب علاج معالجہ کرانا ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔ چونکہ سرکاری اسپتال میں مناسب علاج ممکن نہیں ہے، اس لیے انہیں شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

اس کے علاوہ ایک اور قیدی محمد اسماعیل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل پچھلے 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہے اور ان کا ایک بھائی دبئی میں مقیم ہے جس سے سالوں سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا، لہذا جیل حکام کو حکم دیا جائے کہ واٹس ایپ کال کے ذریعے ان کے بھائی سے بات کرائی جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جیل حکام سے پیرا وائز کمنٹس طلب کر لیے ہیں اور نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔

مزید خبریں