اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سینیٹ اور قومی اسمبلی سے ڈیفنس فورسز ترمیمی بل اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل منظور ہوگئے۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل اور ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026 ایوان میں پیش کیے جنہیں کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں جب معمول کا ایجنڈا معطل کرکے دونوں بل پیش کیےگئے تو اپوزیشن نے احتجاج کرنا چاہا لیکن اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن کو نکتہ اعتراض پر مائیک دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین روز کے دوران چالیس، چالیس ارکان کو نکتہ اعتراض پر بات کا موقع دیا جاچکا ہے، اس وقت نکتہ اعتراض دینا ممکن نہیں۔
اپوزیشن کے احتجاج کے دوران ایوان میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور اپوزیشن ارکان احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دونوں بلوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ترامیم میں بنیادی طور پر دفاعی کمانڈ کے موجودہ قانونی ڈھانچے کو نئے آئینی فریم ورک سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں دونوں بلوں کی منظوری کے دوران وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں موجود رہے ، اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور دیگر اراکین سے مصافحہ کیا اور خیریت دریافت کی.نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار بھی وزیر اعظم کے ساتھ تھے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے بیرونِ ملک علاج سے متعلق حکومت کا بڑا اعلان
دوسری جانب قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ یہ قانون سازی کا طریقہ نہیں ہے۔ اس بل کو کمیٹی کو بھیجیں، ہم بل پر احتجاج کرتے ہیں، ہم بائیکاٹ کرتے ہیں اور واک آؤٹ کرتے ہیں، جس کے بعد پی ٹی آئی ارکان ایوان سے واک آوٹ کرگئے۔











