راولپنڈی(روشن پاکستان نیوز) قیدی وین سے 14 حوالاتیوں کے فرار ہونے کے واقعے پر محکمہ پولیس میں تبدیلیاں کر دی گئیں۔
ایس پی اظفر گورائیہ کو ایس پی ہیڈکوارٹر کا اضافی چارج دے دیا گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
ڈی ایس پی افتخار احمد کو بھی ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر کا چارج دیدیا گیا۔ سی پی او خالد محمود ہمدانی نے دونوں افسران کو مستقل تعیناتی امور سرانجام دینے کی ہدایت کر دی۔
تھانہ سہالہ میں قیدی وین سے فرار 14 ملزمان کیخلاف درج مقدمے کی تفصیلات سامنے آگئیں ، جس میں بتایا گیا ملزمان پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں لال مرچیں پھینک کر فرار ہوئے۔
تھانہ سہالہ کی حدود میں قیدی وین سے 14 ملزمان کے فرار ہونے کے واقعے کی اصل کہانی اور درج کیے گئے مقدمے کی تمام تر تفصیلات سامنے آ گئی۔
یہ مقدمہ حوالات گارڈ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں ڈیوٹی پر مامور 5 پولیس اہلکاروں کو بھی سنگین غفلت اور لاپرواہی برتنے پر نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ جوڈیشل لاک اپ کے 36 قیدیوں کو کہوٹہ کچہری میں پیشی بھگتانے کے بعد واپس لایا جا رہا تھا کہ راستے میں سہالہ کے علاقے میں قیدیوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت گاڑی کے اندر آپس میں شدید جھگڑا شروع کر دیا۔
متن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ “جب وین کے اندر لڑائی کی آوازیں سن کر ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار معائنہ کرنے اور بیچ بچاؤ کرانے کے لیے پیچھے پہنچے، تو ملزمان نے اچانک پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں لال مرچیں پھینک دیں۔”
اسلام آباد پولیس کے 11 محرم الحرام کے حوالے سے سکیورٹی انتظامات مکمل
آنکھوں میں مرچیں لگنے کے باعث جب پولیس اہلکار بے بس ہو گئے، تو ملزمان نے جوڈیشل گارڈ پر وحشیانہ حملہ کر دیا اور وین سے نکل کر فرار ہونے لگے، اس افراتفری کے دوران مجموعی طور پر 14 قیدی بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا اور پولیس نے ہنگامی کارروائی کرتے ہوئے فرار ہونے والے 14 قیدیوں میں سے 4 کو دوبارہ حراست میں لے لیا ہے، جبکہ باقی 10 فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔











