اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پانی کا تحفظ قومی سلامتی کا معاملہ ہے بھارت جنگ کے بیچ بونے سے گریز کرے۔
سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ سرحد پار دریاؤں کے عالمی معاہدے کو کمزور کرنے کی قیمت بھاری ہوسکتی ہے، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2 ممالک تک محدود نہیں رہتے۔
انہوں نے کہا کہ پانی پاکستان کے25 کروڑسے زائد شہریوں کی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، ہماری زراعت، غذائی تحفظ اور معیشت کا انحصار 3 مغربی دریاؤں کے بہاؤ پر ہے، دریاؤں اور ان کے پانی کا تحفظ پاکستان کے لیے قومی مفاد اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے، بھارت کومشورہ ہےجنگ کے بیج بونے سے گریز کرے۔
پاکستان کی وہ حیرت انگیز عمارت جس کا باقاعدہ علاج کیا گیا
اسحاق ڈار نے کہا کہ مشورہ ہے بھارت جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں نہ ڈالے، خطے میں پائیدار امن کا راستہ طاقت یا دھمکی نہیں بلکہ صرف مذاکرات ہے، پاکستان کےجائز آبی حقوق محروم کرنے کی کوشش کے سنگین اثرات ہوں گے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے عزم پر پوری طرح قائم ہے، پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم کسی صورت جنگ نہیں چاہتے، پاکستان اپنےجائز آبی وسائل پر غیر قانونی قبضہ یا تجاوز ہر گز قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی قانون کےت حت دستیاب قانونی اور سفارتی ذرائع سے مفادات کا تحفظ کریں گے، مئی 2025 کے بحران اور بھارتی اعلانات کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، پانی کا رخ موڑنے یا روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ کے مترادف اقدام تصور کیا جائے گا۔











