هفته,  31 اکتوبر 2026ء
آسان اقساط میں اسمارٹ فونز دینے کی پالیسی! عوام کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
موبائل فونزکی درآمدات میں مزید اضافہ، 10ماہ کے دوران 455 ارب سے زائد کے موبائل فونز درآمد

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وزیراعظم شہباز شریفنے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے موبائل فونز آسان اقساط پر دینے کی پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

تاکہ عام صارفین بھی اپنی ضرورت کے مطابق فون خرید سکیں۔اس معاملے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں موبائل فونز کی درآمد، ان پر عائد ٹیکسوں اور متعلقہ پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے شرکت کی اور کمیٹی کو مختلف امور پر بریفنگ دی۔وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے بتایا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے تقریباً 93 فیصد موبائل فونز مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں تیار ہونے والے ان فونز پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم نے عوام کو سہولت دینے کے لیے موبائل فونز کی آسان اقساط پر فراہمی سے متعلق پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پسند کی شادی کے لیے لڑکی 100 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئی

شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ فائیو جی (5G) اسمارٹ فونز کی درآمد میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں اور ایف بی آر کے ٹیکسوں سے فائیو جی ٹیکنالوجی کی پیش رفت متاثر نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے موبائل فونز کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں ہے۔پرانے موبائل فونز پر ٹیکسوں میں کمی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ مختلف مصنوعات اور موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح میں ردوبدل کا اختیار ٹیکس پالیسی آفس کے پاس ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس معاملے پر مزید وضاحت کے لیے ٹیکس پالیسی آفس کے نمائندوں کو قائمہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے۔اجلاس کے دوران ایف بی آر حکام نے بتایا کہ موبائل فون پر ٹیکس کا تعین کرتے وقت اس کے ماڈل اور اسٹوریج کی گنجائش کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم حکام کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا موجودہ نظام موبائل فون کے مخصوص ماڈل کی درست نشاندہی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

مزید خبریں