جمعرات,  23 جولائی 2026ء
امریکی کمپنی کا انقلابی مسافر طیارہ: ایندھن کی کھپت میں پچاس فیصد تک کمی کا دعویٰ

لندن(روشن پاکستان نیوز) امریکہ کی ایک ہوابازی کمپنی نے فضائی سفر کو زیادہ کم خرچ اور ماحول دوست بنانے کے لیے ایک منفرد مسافر طیارے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ موجودہ مسافر طیاروں کے مقابلے میں پچاس فیصد تک کم ایندھن استعمال کرے گا۔

یہ نیا طیارہ اپنی غیر روایتی ساخت کی وجہ سے نمایاں ہے، جس میں پروں اور مرکزی ڈھانچے کو ایک ہی شکل میں تیار کیا گیا ہے۔ اس ڈیزائن سے ہوا کی مزاحمت کم ہوتی ہے اور پورا طیارہ بلندی حاصل کرنے میں کردار ادا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی بچت ممکن ہوتی ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ طیارہ تقریباً ڈھائی سو مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھے گا اور پانچ ہزار بحری میل تک مسلسل سفر کر سکے گا، جس سے یہ درمیانے اور طویل فاصلے کے سفر کے لیے موزوں ہوگا۔

جاپان کی قومی فضائی کمپنی بھی اس منصوبے میں شریک ہو گئی ہے۔ وہ طیارے کے استعمال، دیکھ بھال، مرمت، زمینی انتظامات اور دیگر عملی امور کے حوالے سے اپنی مہارت فراہم کرے گی تاکہ طیارہ فضائی کمپنیوں کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

نئے برطانوی وزیراعظم نے بھی امریکا کو ایران کیخلاف حملوں کیلئے اپنے اڈے استعمال کرنےکی اجازت دیدی

جاپانی فضائی کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں شمولیت سے ماحول دوست فضائی سفر کو فروغ ملے گا اور مستقبل میں کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لانے کے ہدف کے حصول میں مدد ملے گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طیارے کو اس انداز میں تیار کیا جا رہا ہے کہ اسے موجودہ ہوائی اڈوں پر کسی بڑی تبدیلی کے بغیر استعمال کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ اندرونی حصہ زیادہ کشادہ ہوگا، جس سے مسافروں اور عملے کو بہتر سہولتیں میسر آئیں گی۔

منصوبہ سازوں کے مطابق اگر تمام مراحل کامیابی سے مکمل ہوئے تو یہ جدید مسافر طیارہ اگلی دہائی کے آغاز میں باقاعدہ فضائی سفر کے لیے دستیاب ہوگا اور ہوابازی کی صنعت میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید خبریں