اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد آج بھی مالی مشکلات، بے روزگاری اور محدود مواقع کے باعث حکومتی امدادی پروگراموں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے، جبکہ دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک میں خواتین ملکی معیشت کا فعال اور مضبوط حصہ بن چکی ہیں۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش اور دیگر ایشیائی ممالک میں خواتین صنعتوں، کاروبار، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی اور چھوٹے کاروباروں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کی معاشی ترقی میں خواتین کی شمولیت کو ایک بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان میں دیہی اور شہری علاقوں کی کئی خواتین آج بھی بنیادی روزگار کے مواقع سے محروم ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر امدادی اسکیموں کی لائنوں میں دیکھا جا سکتا ہے، جو معاشی کمزوری اور محدود خودمختاری کی عکاسی کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھیک مانگنے کا بڑھتا رجحان، اوورسیز پاکستانی بھی پریشان
ماہرین کے مطابق پاکستان میں خواتین کو تعلیم، ہنر، کاروباری سہولیات اور محفوظ کام کے ماحول کی فراہمی کے بغیر پائیدار ترقی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کو مناسب تربیت، آسان قرضے، آن لائن کاروبار اور چھوٹے صنعتی یونٹس تک رسائی دی جائے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنا سکتی ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری میں لاکھوں خواتین کام کر رہی ہیں، جس نے ملکی برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح تھائی لینڈ میں سیاحت، خدمات اور چھوٹے کاروباروں میں خواتین کی بڑی تعداد سرگرم عمل ہے، جبکہ بھارت میں خواتین آئی ٹی، تعلیم، میڈیا اور کاروباری شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بھی خواتین بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہیں، تاہم انہیں مواقع، اعتماد اور عملی سہولیات کی ضرورت ہے۔ گھریلو صنعت، فری لانسنگ، ای کامرس، فیشن، تعلیم اور صحت جیسے شعبے خواتین کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ خواتین کو صرف امدادی پروگراموں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے پر توجہ دی جائے۔ ان کے مطابق ایک تعلیم یافتہ، بااختیار اور معاشی طور پر مضبوط خاتون نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان خواتین کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائے تو ملک کی معیشت، روزگار اور سماجی ترقی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔











