اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ٹک ٹاک پر “شاہ زیب سیالکوٹی” کے نام سے ایک صارف کے حوالے سے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کے تقریباً 1.2 ملین فالوورز ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ شخص اپنی لائیو اسٹریمنگ کے دوران انتہائی نامناسب، غیر اخلاقی اور غلیظ زبان استعمال کرتا ہے، نازیبا الفاظ کہتا ہے اور بعض اوقات دوسرے افراد اور ان کے اہل خانہ کی تضحیک بھی کرتا ہے، جس پر آن لائن کمیونٹی میں سخت تشویش اور تنقید پائی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اس رویے کو معاشرتی اور اخلاقی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایسے مواد کو اتنی بڑی تعداد میں فالوورز کیسے مل رہے ہیں، اور کیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس طرح کی زبان اور رویے کی کوئی گنجائش ہونی چاہیے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ جب کوئی فرد عوامی پلیٹ فارم پر موجود ہو تو اس پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے الفاظ اور رویے کا خیال رکھے۔
ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے سی ٹی ڈی اہلکار کو جھانسہ دے کر 19 لاکھ روپے بٹور لیے
مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ صارف کی جانب سے بعض مواقع پر مذہبی نوعیت کے نعرے یا جذباتی جملے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ اس کا متنازع رویہ عوام میں مزید سوالات اور بے چینی پیدا کرتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس طرح کا تضاد نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے بلکہ سوشل میڈیا کے مجموعی ماحول پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔
عوام کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹک ٹاک انتظامیہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے، کمیونٹی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد کرے اور ایسے اکاؤنٹس کی نگرانی بڑھائی جائے جو لائیو سیشنز میں اخلاقی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں ذمہ داری، برداشت اور اخلاقی اصولوں کو فروغ دیا جائے تاکہ آن لائن پلیٹ فارمز معاشرتی بگاڑ کے بجائے مثبت رویوں کا ذریعہ بن سکیں۔











