اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) جناح گارڈن، سوہان گارڈن فیز ون و ٹو، گلبرگ گرین، کیپیٹل انکلیو، کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی،دی لائف ریذیڈنشیا اور دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے متاثرین نے سی ڈی اے اور محکمہ کوآپریٹو کی مبینہ غفلت، بے ضابطگیوں اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکامی کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا شفاف فرانزک آڈٹ اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے، زمین کی ملکیت، پلاٹوں کی الاٹمنٹ، مالی معاملات، کمرشلائزیشن اور انتظامی فیصلوں کی چھان بین کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ تمام متاثرہ شہریوں کو تین ماہ کے اندر ان کے پلاٹوں کا قابلِ تصدیق قبضہ دیا جائے اور جہاں پلاٹ فراہم کرنا ممکن نہ ہو وہاں موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق رقم ادا کی جائے۔ متاثرہ سوسائٹیوں کے لیے یکساں قانون اور پالیسی مرتب کرنے کے ساتھ شہریوں کو ہراساں کرنے، دھمکانے اور دباؤ ڈالنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین کے نمائندوں ماہرہ جبیں، سید ظفر اللہ پاشا، شیخ نصیرو دیگرکا کہنا تھا کہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے قیام کا بنیادی مقصد عام شہریوں، محنت کشوں، ریٹائرڈ ملازمین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی چھت فراہم کرنا تھا، لیکن بدقسمتی سے متعدد سوسائٹیوں میں لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی مبینہ بے ضابطگیوں کی نذر ہو گئی ہے۔ اوورسیز پاکستانی 18، 18 گھنٹے محنت کرکے اپنی کمائی پاکستان بھیجتے رہے تاکہ مستقبل میں اپنے ملک میں گھر بنا سکیں، لیکن وطن واپسی پر کئی افراد کو اپنے نام پر خریدے گئے پلاٹوں کا وجود تک زمین پر نہیں ملا اور بعض شہری آج بھی کئی دہائیوں سے اپنے حقوق کے لیے دفاتر اور عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف شہریوں کو سوسائٹیوں میں بنیادی سہولیات، اسکول، پارکس، گرین بیلٹس اور مارکیٹس کی فراہمی کے خواب دکھا کر آباد کیا گیا، دوسری جانب مبینہ طور پر اسکولوں اور پارکوں کے لیے مختص جگہوں پر کمرشل پلازے تعمیر کرکے فروخت کیے جا رہے ہیں۔ آبادی میں اضافے کے باوجود تعلیمی اداروں، اسپتالوں، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، جبکہ شہریوں سے ٹیکس اور دیگر واجبات وصول کرنے کے باوجود انہیں ریلیف دینے کے بجائے مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والا شخص اپنے بچوں کو اسلام آباد کے مہنگے تعلیمی اداروں میں کیسے تعلیم دلا سکتا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں نے ان آبادیوں میں معیاری سرکاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔متاثرین نے الزام عائد کیا کہ سی ڈی اے نے زمین کے حصول کے لیے عام شہریوں کو گھروں کی مسماری کے نوٹسز جاری کرنا شروع کر دئیے ہیں، حالانکہ ان شہریوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی سے پانچ پانچ مرلے کے گھر تعمیر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین نہ قبضہ مافیا ہیں اور نہ ہی کرپٹ، انہیں بتایا جائے کہ اپنی جمع پونجی سے گھر بنانے والے شہریوں کا قصور کیا ہے؟ ان کے مطابق سی ڈی اے کی جانب سے مبینہ طور پر 14 ارب روپے جرمانوں کی مد میں وصول کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جبکہ لاکھوں افراد اور ان کے خاندانوں کی رہائش، تعلیم اور مستقبل کے تحفظ کے لیے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔متاثرین نے نیب اور عدالتی نظام میں عام شہریوں کو درپیش مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک عام آدمی انصاف کے حصول کے لیے سالہا سال دفاتر اور عدالتوں کے چکر لگاتا رہتا ہے، جبکہ بااثر افراد مبینہ طور پر مالی اثر و رسوخ کے ذریعے احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔ نیب میں درخواست دینے کے لیے 50 کروڑ روپے کی حد مقرر ہونے سے عام شہریوں کے لیے انصاف کے حصول کے راستے مزید محدود ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عام شہریوں کی شکایات پر بھی فوری کارروائی اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔پریس کانفرنس میں زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ان کے مطابق پانچ سال قبل تقریباً 50 فٹ کی گہرائی سے پانی دستیاب تھا، جبکہ اب پانی حاصل کرنے کے لیے تقریباً 300 فٹ تک بورنگ کرنا پڑ رہی ہے، جو مستقبل میں پانی کے سنگین بحران کا پیش خیمہ ہے۔انہوں نے میڈیا، جامعات، طلبہ اور متعلقہ اداروں کو دعوت دی کہ وہ سلمان اینچ بلاک سمیت متاثرہ علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی صورتحال کا عملی جائزہ لیں اور فوری ہائیڈرولوجیکل سروے کرایا جائے۔ ٹیوب ویلز سے روزانہ نکالے جانے والے پانی کی مقدار اور زیرِ زمین ذخائر پر اس کے اثرات کا تعین کیا جائے، جبکہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے لیے ری چارج ویلز تعمیر کیے جائیں۔متاثرین نے سی ڈی اے کی جانب سے شہریوں کے گھروں پر جاری مسماری کے نوٹسز فوری طور پر معطل کرنے، متاثرین کی قانونی اور انسانی حقوق کے مطابق بحالی یقینی بنانے، سوسائٹیوں کے انتخابات اور انتظامی امور میں شفافیت لانے اور عام ممبران کو مساوی نمائندگی دینے کا بھی مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی ادارے یا فرد کے خلاف نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، شفاف احتساب اور بروقت انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ عوام کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور آنے والی نسلوں کے زیرِ زمین پانی کا تحفظ اجتماعی ذمہ داری ہے، اس لیے وزیراعظم، وزیر داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے اور محکمہ کوآپریٹو کے اعلیٰ حکام فوری نوٹس لے کر متاثرین کو انصاف اور بنیادی سہولیات فراہم کریں۔











