لندن(روشن پاکستان نیوز) اماراتی پرواز میں کپتان پر چاقو سے حملہ کرنیوالا شریک پائلٹ برطانیہ میں پڑھا تھا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق 3 سال پہلے ملزم کے قبضے سے اسرائیلی طیاروں کو ہدف بنانے کی سازش کا منصوبہ برآمد ہوا تھا۔
ملزم کے پاس القاعدہ کا پراپیگنڈہ مواد بھی تھا مگر اسے اماراتی پرواز نے طیارہ اڑانے کی اجازت دیدی تھی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اماراتی ائیرلائن کے زخمی کپتان کو ٹیلیفون کیا اور اس سے پوچھا کہ طیارے میں کیا واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد اماراتی ائیرلائن کے زخمی کپتان نے اسرائیلی وزیراعظم کو خود پرحملے کا پورا واقعہ بتایا۔
شریک پائلٹ نے کہا کہ وہ عبادت کرنے جارہا تھا تاہم اچانک میرے سر پر چوٹ لگی، میں سمجھا طیارے کوحادثہ ہوا ہے پھرضربیں لگیں تواحساس ہوا یہ شریک پائلٹ ہے، کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش تو شریک پائلٹ روکتا رہا، کاک پٹ کا دروازہ کھولا تو لوگوں نے شریک پائلٹ پرقابوپالیا۔
واقعے کا پس منظر:
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں دبئی سے اسرائیل جانے والی اماراتی پرواز کے ایک پائلٹ نے دوسرے پر چاقو سے حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا۔
برطانیہ: 20 سالہ لڑکی سے مبینہ جنسی زیادتی، 40 سالہ شخص گرفتار
جہاز کا کنٹرول چھیننے اور اس کو گرانے کی کوشش کٰ گئی تھی ، طیارے میں 169 اسرائیلیوں سمیت 174 مسافر سوار تھے۔ حملہ کرنے والا پائلٹ سعودی حکام کی حراست میں ہے۔
صورتحال اس وقت کنٹرول میں آئی جب طیارے میں موجود مسافروں نے بروقت مداخلت کر کے کو پائلٹ کو قابو کر لیا۔ بعد ازاں جہاز میں سفر کرنے والے ایئرلائن کے دیگر آف ڈیوٹی پائلٹس نے طیارے کا کنٹرول سنبھال کر اسے بحفاظت سعودی عرب میں اتار لیا۔











