جمعه,  28  اگست 2026ء
سپریم کورٹ نے ملازمین کی سینیارٹی کے کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سپریم کورٹ نے خیبرپختوخوا کے ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متاثرین کی اپیلیں منظور کرلی ہیں۔

سپریم کورٹ کا 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ملازمین کی سینیارٹی اصل حالت میں بحال کی جائے، ملازمین کی ریگولرائزیشن 7 مارچ 2018 سے مؤثر ہوگی۔

عدالت کا کہنا ہے کہ گزٹ نوٹیفکیشن کی تاخیر ملازمین کے قانونی حق پر اثر انداز نہیں ہوسکتی، انتظامی تاخیر کی سزا ملازمین کو نہیں دی جاسکتی، ریاست انتظامی غلطی کا فائدہ خود نہیں اٹھا سکتی۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ انتظامی نااہلی کی وجہ سے کسی ملازم کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جاسکتا۔ ریگولر ائزیشن کی گزٹ اشاعت میں تاخیر محض انتظامی کوتاہی تھی، ملازمین انتظامی تاخیر کے باعث اپنے قانونی حق سے محروم نہیں ہوسکتے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی اسپتال منتقلی کا حکم، اسلام آبادانتظامیہ نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی جلد سماعت کی درخواست دائرکردی

فیصلے کے مطابق گزٹ کی اشاعت میں تاخیر ریگولرائزیشن کو غیر مؤثر نہیں بناتی، نوٹیفکیشن کی اشاعت کی تاریخ کو سینیارٹی کا واحد معیار نہیں بنایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ملازمین کو کے پی ایمپلائز ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018 کے تحت ریگولر کیا گیا جس کے نوٹیفکیشنز 28 اگست اور 17 اکتوبر 2018 کو جاری ہوئے تھے، ریگولرائزیشن کے تمام نوٹیفکیشنز 21 اگست 2024 کو سرکری گزٹ میں شائع ہوئے۔

2019 سے 2023 تک جاری سنییارٹی لسٹوں میں متعلقہ ملازمین کو سینئر رکھا گیا تھا، 2024 میں جاری کی گئی سینیارٹی لسٹ پر بعض ملازمین نے اعتراض اٹھایا تھا، سروس ٹریبنول نے 2024 کی سینیارٹی لسٹ کو کالعدم قرار دیا تھا، سروس ٹریبنول نے گزٹ کی اشاعت میں تاخیر کو سینیارٹی کے معاملے میں اہم قرار دیا تھا۔

مزید خبریں