مظفرآباد (روشن پاکستان نیوز) کل جماعتی حریت کانفرنس کے ایک وفد نے کل جماعتی حریت کانفرنس کی سینیر رہنما میڈم شمیم شال کی قیادت میں آزاد کشمیر یونیورسٹی کے شعبۂ کشمیر اسٹڈیز کا دورہ کیا، جہاں وفد نے شعبۂ کشمیر اسٹڈیز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سمیرا شفیق سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد کل جماعتی حریت کانفرنس اور کشمیر لبریشن سیل کے باہمی اشتراک سے بابائے حریت سید علی شاہ گیلانیؒ کی برسی کے موقع پر منعقد ہونے والی خصوصی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینا تھا۔
ملاقات میں ڈاکٹر شبنم، ڈاکٹر راجہ نزاکت علی اور حریت رہنماؤں سید گلشن اور مشتاق احمد بٹ بھی موجود تھے۔
اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی، انسانی اور سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا اور مقبوضہ علاقے میں جاری انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وفد نے اس امر پر زور دیا کہ مسئلۂ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک دیرینہ سیاسی مسئلہ ہے، جس کے پائیدار حل کے لیے کشمیری عوام کی خواہشات اور حقِ خودارادیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
حریت وفد نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانیؒ نے اپنی پوری زندگی کشمیری عوام کے سیاسی، جمہوری اور حقِ خودارادیت کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی ثابت قدمی، نظریاتی استقامت اور اصولی موقف کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے۔ گیلانیؒ نے نامساعد حالات، قید و بند اور مسلسل دباؤ کے باوجود اپنے اصولی مؤقف سے دستبردار ہونے سے انکار کیا اور اپنی جدوجہد کو آئینی و سیاسی حقِ خودارادیت کے مطالبے سے وابستہ رکھا۔
وفد نے ڈاکٹر سمیرا شفیق کو بابائے حریت کی برسی کے موقع پر منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت پیش کی، جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے کانفرنس میں بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ جامعات اور علمی ادارے مسئلۂ کشمیر کے تاریخی، سیاسی، قانونی اور انسانی پہلوؤں پر سنجیدہ علمی و تحقیقی مکالمے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بعد ازاں کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد نے ریڈ فاؤنڈیشن گرلز کالج کا بھی دورہ کیا، جہاں وفد نے کالج کی پرنسپل مس فرخندہ سے ملاقات کی۔ وفد نے انہیں بھی سید علی شاہ گیلانیؒ کی برسی کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس اور کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔
مس فرخندہ نے دعوت قبول کرتے ہوئے کانفرنس میں بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرائی اور بابائے حریت سید علی شاہ گیلانیؒ کی طویل سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ملاقاتوں کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سید علی شاہ گیلانیؒ کی فکر، جدوجہد اور اصولی استقامت کو نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ مسئلۂ کشمیر کے حوالے سے علمی، سیاسی اور سفارتی سطح پر مؤثر آواز بلند کرنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص جامعات، تعلیمی اداروں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے سیاسی، سفارتی اور پُرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور بابائے حریت سید علی شاہ گیلانیؒ کی جدوجہد اور قربانیوں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔











