پاکستان اور بھارت دونوں سال 1947 میں 14 اور 15 اگست کو آذاد ہوئے ۔ آذادی کے صرف دو سال بعد بھارت نے اپنا آئین بنا لیا اور اس کو نافذ کر دیا جس کے تحت بھارت کو ایک پارلیمانی جمہوری نظام دیا گیا اور 1950 سے لے کر آج تک بھارت میں اسی آئین کے تحت پارلیمانی نظام حکومت چل رہا ہے اور بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی قرار دیا جاتا ہے ۔ بھارتی آئین کو نافذ ہوئے قریباً آٹھ دھائیاں پوری ہونے کو ہیں لیکن آج تک بھارت میں کسی بھی طالع آزما نے بھارتی آئین کو توڑا یا سرد خانے میں نہیں رکھا ۔
کبھی ایک سیاسی پارٹی بر سر اقتدار آتی ہے تو کبھی دوسری لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ بھارت کے آئین میں کوئی خرابی ہے یا بھارت کےنظام حکومت میں کوئی خرابی ہے اس لیے اس کو تبدیل کر دینا چاہیے ۔ بھارت کا سارا حکومتی نظام آئین کے تحت چل رہا ہے اور بوقت ضرورت آئین میں ترامیم بھی کی جاتی ہیں اور اب تک پچھتر ، اسی سال کے عرصے میں بھارتی آئین میں 106 ترامیم کی گئی ہیں ۔ دوسری طرف بھارت کے ساتھ ایک ہی سال ایک ہی ماہ اور ایک ہی ہفتے میں آذاد ہونے والے ملک پاکستان میں آج تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ یہاں کونسا حکومتی نظام چلنا چاہیے ؟ بھارت نے تو آذادی کے فوراً بعد آئین بنا کر یہ فیصلہ کرلیا کہ بھارتی میں پارلیمانی نظام حکومت ہی چلے گا لیکن ہمارے ملک میں کبھی صدارتی اور کبھی پارلیمانی نظام چلایا جاتا ہے ۔ 1947 سے لے کر 1973 تک ملک میں آئین بنتے اور ٹوٹتے گئے اور ہمارا ملک سر زمین بے آئین کہلانے لگا اور بار بار آئین بننے اور ٹوٹنے کی وجہ سے آخر کار ہمارا ملک ہی 1971 میں ٹوٹ گیا جس کے بعد بقیہ پاکستان میں جمہوریت قائم ہوئی اور آخر کار 1973 میں ایک متفقہ آئین بن گیا اور اس آئین کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت چلے گا اور ہر پانچ سال کے بعد بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات ہونگے اور جیتنے والی سیاسی پارٹی حکومت بنائے گی ۔ لیکن پاکستان کو تجربہ گاہ سمجھنے والوں نے اس آئین کو دل سے تسلیم نہیں کیا جس کی وجہ سے آئین کے نفاذ کے محض چار سال بعد ہی ملک میں جمہوریت کا بستر گول کرکے ایک طویل مارشل لاء لگا دیا گیا ۔ پھر مضبوط اسٹبلشمنٹ نے فیصلہ کیا کہ اس ملک میں پارلیمانی نظام تو ہوگا لیکن کنٹرول سارا صدر مملکت کے پاس ہی ہوگا اس لیے 1985 میں جو نام نہاد غیر سیاسی انتخابات کروائے گئے تھے اس کے نتیجے میں بننے والی اسمبلی کو ڈنڈے کے زور پر مجبور کیا گیا کہ آئین میں ایک ترمیم کی جائے جس کے تحت تمام اختیارات صدر مملکت کو منتقل کیے گئے جو کسی بھی وقت کوئی بہانہ بنا کر بغیر وزیراعظم سے مشورہ کیے قومی اسمبلی توڑ کر حکومت کا خاتمہ کر سکتے ہیں یعنی پاکستان میں نام کو تو پارلیمانی نظام حکومت تھا لیکن طاقت کا مرکز صدر مملکت ہی ہوگا ۔ اس وقت صدارت ایک ملٹری ڈکٹیٹر کے پاس تھی لیکن اس کے مرنے کے بعد جب صدارت ایک سویلین صدر کے پاس آئی تو اس نے بھی تمام تر اختیارات اپنے پاس رکھتے ہوئے کئی مرتبہ آٹھویں ترمیم کے ہتھوڑے سے منتخب حکومتوں کا قبل از وقت خاتمہ کیا ۔
اور تو اور پھر جب ایک سیاسی لیڈر فاروق لغاری کو پیپلز پارٹی نے صدر بنایا تو اس نے بھی اسی حربے کو استعمال کرتے ہوئے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو چلتا کیا ۔ پاکستان کی ایسٹبلشمنٹ آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ پاکستان میں کونسا نظام حکومت ہونا چاہیے ۔ اب ایک مرتبہ پھر نظام حکومت پر ایک انتہائی اہم شخصیت کی طرف سے اعتراضات کیے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ سسٹم فیل ہو چکا ہے ۔ مرکزی کابینہ کے ایک انتہائی طاقتور رکن وزیر داخلہ محسن نقوی نے موجودہ حکومت کو ایک ناکام حکومت اور پورے حکومتی سسٹم کو فیل قرار دے کر ایک نئی بحث کے دروازے کھول دیے ہیں اور انکے بیان سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ وہ ملک میں صدارتی نظام چاہتے ہیں ۔
آخر کب تک ہمارے ملک میں یہ شعبدہ بازی جاری رہیگی اور ہم صدارتی ، پارلیمانی اور مارشل لاؤں کے بیچ میں پستے رہینگے اور ملک ترقی کی جگہ تنزلی کی طرف بڑھتا رہے گا ۔ برایے خدا ایک فیصلہ کریں اور اس پر قائم رہیں اور جو بھی بر سر اقتدار آئے اسے کام کرنے دیں تو ہی ہمارا ملک ترقی کی جانب چل پڑے گا انشاءاللہ ۔











