بدھ,  22 جولائی 2026ء
فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی منظوری

پیرس(روشن پاکستان نیوز) فرانس کی پارلیمنٹ نے ایک تاریخی قانون منظور کر لیا ہے، جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس اقدام کے بعد فرانس یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر اس نوعیت کی عمر کی حد مقرر کی ہے۔

قانون کے مطابق یہ پابندی یکم ستمبر 2026 سے نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو نئی عمر کی تصدیق (Age Verification) کا نظام نافذ کرنا ہوگا، جبکہ موجودہ کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس بھی مقررہ مدت میں بند کرنا ہوں گے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد بچوں کو سائبر بُلیئنگ، نقصان دہ مواد، اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال اور ذہنی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے لیے قرارداد پیش

تاہم، اس قانون پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر کی مؤثر تصدیق کرنا تکنیکی طور پر مشکل ہوگا، جبکہ بعض ماہرین کے مطابق بچے وی پی این یا دیگر طریقوں سے پابندی کو نظرانداز کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قانون کو آئینی اور یورپی قوانین کے تناظر میں بھی جانچا جا سکتا ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے سوشل میڈیا پر عمر کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا پہلے ہی کم عمر صارفین کے لیے سخت پابندیاں متعارف کرا چکا ہے، جبکہ یورپ کے دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے قوانین پر کام کر رہے ہیں۔

مزید خبریں