حافظ آباد (شوکت علی وٹو)ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال حافظ آباد میں آنکھوں کے مریضوں کے ساتھ ہونے والی مسلسل زیادتی بالآخر بے نقاب ہو گئی، جہاں گزشتہ مبینہ 4 ماہ سے آنکھوں کا ایک بھی آپریشن نہیں کیا گیا اور فیکو مشین کو خراب حالت میں پڑا رہنے دیا گیا۔ اس سنگین غفلت کا مؤقف جاننے کے لیے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر پہنچے تو ابتدا میں انہوں نے آپریشنوں کے باقاعدگی سے ہونے کا کھوکھلا دعویٰ کیا، مگر جیسے ہی ان کی اپنی ہدایت پر سرکاری آپریشن رجسٹر طلب کیا گیا، ان کا اپنا دعوی کھوکلا ثابت ہوا سرکاری رجسٹرڈ کے ریکارڈ کے مطابق رواں سال مارچ میں صرف 6 اور 24 اپریل کو، ایک یعنی مجموعی طور پر سال 2026 میں محض 7 روایتی ٹانکے والے آپریشن کیے گئے، جبکہ 24 اپریل کے بعد 20 جولائی تک مزید کسی آپریشن کا اندراج تک موجود نہیں تھا۔ یہ اعداد و شمار خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرکاری وسائل پر لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرنے والی آئی کنسلٹنٹ نے مریضوں کے علاج کے فرائض سے مکمل روگردانی کی۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق 25 فروری کو پی ایم یو ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے کہ پندرہ سال پرانی فیکو مشین ناکارہ ہو گئی ہے نئی مشین فراہم کی جائے۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ روایتی ٹانکے والے موتیے کے آپریشن فیکو مشین کے بغیر کیے جاتے ہیں، تو پھر آئی کنسلٹنٹ نے سال 2026 کے دوران 7 ماہ میں صرف سات آپریشن کیوں کیے ہیں اور 24 اپریل کے بعد آپریشنوں کا سلسلہ مکمل طور پر کیوں بند کر دیا ہے ۔اس اہم ترین سوال پر ہسپتال انتظامیہ مکمل طور پر خاموش اور بے بس دکھائی دی۔ باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ہسپتال میں سرجیکل سامان، لینز اور دیگر تمام ضروری طبی سہولیات موجود ہونے کے باوجود، محض آئی کنسلٹنٹ کی بلاجواز غیر حاضری اور مریضوں سے عدم دلچسپی کے باعث غریب اور دور دراز علاقوں سے آنے والے سینکڑوں مریض علاج سے محروم ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ آئی کنسلٹنٹ کے کمرے میں طویل عرصے سے تعینات ایک بااثر وارڈ بوائے مریضوں کو کھلے عام ایک مخصوص دکان سے عینک بنوانے اور نجی معائنے پر مجبور کرتا ہے، جو سرکاری ہسپتال میں سرکاری وسائل کے تحفظ پر کھلا سوالیہ نشان ہے۔ شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کوآرڈینیٹر وزیراعلیٰ پنجاب سائرہ افضل تارڑ، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین غفلت اور مریضوں کے استحصال کا فوری نوٹس لیا جائے، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر ذمہ داروں کا فوری تعین کیا جائے، متعلقہ عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے اور نئی جدید فیکو مشین کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ غریب مریض مزید ذلت اور اذیت سے بچ سکیں۔











